بیت بازی

by Other Authors

Page 73 of 871

بیت بازی — Page 73

73 پایاب ہو تمھارے لیے بحر معرفت کھل جائے تم پہ رازِ حقیقت؛ خُدا کرے پرواز ہو تمھاری نہ افلاک سے بلند پیدا ہو بازوؤں میں وہ قوت؛ خُدا کرے پڑے گی رُوح نئی ؛ جسم زار مسلم میں وہ کام ہوگا؟ میرے جسم نیم جاں سے آج پہلے تو ساحروں کے عصا مار ہوگئے لیکن عصائے موسیٰ سے بے کار ہو گئے پائی جاتی ہے وفا جو اس میں؛ مجھ میں وہ کہاں میں کہوں کس منہ سے اس کو میں وفاداروں میں ہوں پیارے! تجھے غیر سے ہے کیا کام میرے دل کا آ آ راز ہو جا پڑے سو رہے ہیں؛ جگا دے ہمیں مرے جا رہے ہیں؛ جلا دے ہمیں پاک ہو جاؤ؛ کہ وہ شاہ جہاں بھی پاک ہے جو کہ ہو نا پاک دل؛ اُس سے نہیں کرتا وہ پیار کلام حضرت خليفة المسيح الثالث پھر برق میں بنوں گا، جل کر میں خاک ہوں گا اکسیر جو بنا دے، اکسیر میں وہ ہوں گا ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷