بیت بازی — Page 814
814 90 ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ ۱۰۶ ۱۰۷ ۱۰۸ کون رو فراق سے کوٹ کے پھر نہ آسکا کس کے نقوش منتظر رہ گئے بے محل پڑے کیا جاتا ہے، کہ چمنیوں سے؛ راک اُٹھتا ہے دھواں آہوں کی طرح سارا درد به داماں سُرمی رُت نے ؛ أفق کچلایا ہے کوئی احمد یوں کے امام سے بڑھ کر کیا دنیا میں غنی ہو گا ہیں کچے دل اس کی دولت اخلاص اس کا سرمایہ ہے کیا تم کو خبر ہے؛ کہ مولا کے اسیرو! تم سے مجھے اک رشتہ جاں سب سے ہوا ہے کس دن مجھے تم یاد نہیں آئے؛ مگر آج کیا روز قیامت ہے؛ کہ اک حشر بپا ہے کنارے گونج اُٹھے ہیں زمیں کے جاگ اُٹھو کہ اک کروڑ صدا؛ اک صدا سے اُٹھی ہے کبھی اذن ہو؟ تو عاشق، دریار تک تو پہنچے یہ ذراسی اک نگارش ہے؛ نگار تک تو پہنچے کچھ عجب نہیں کہ کانوں کو بھی پھول پھل عطا ہوں میری چاہ کی حلاوت؛ رگِ خار تک تو پہنچے کسے فکر عاقبت ہے؛ انہیں بس یہی بہت ہے کہ رہین مرگ؛ داتا کے مزار تک تو پہنچے کوئی مذہب ہے سسکتی ہوئی روحوں کا نہ رنگ ہر ستم دیدہ کو انسان ہی پایا ہم نے کلام محمود ہے کھڑ کی جمالِ یار کی ہیں عجز و انکسار سے بڑا حجاب سر پر غرور کاش! تو پہلو میں میرے خود ہی آکر بیٹھ جائے عشق سے مخمور ہوکر وصل کا ساغر پلائے کیوں کانپتا ہے دشمنِ جاں تیرے پیار سے جو دوست تھے؛ وہ طالب آزار ہوگئے کبھی وہ گھڑی بھی ہوگی ؟ کہ کہوں گا یا الہی ! مری عرض تو نے سُن لی؛ وہ مجھے اُگل رہی ہے کلامِ پاک کی اُلفت کا ان کے دل میں گھر کر دے نبی سے ہو محبت؛ اور تعشق ان کو ہو تجھ سے کالجوں کے بھی ہیں شہروں میں کھلے دروازے ہر جگہ ہوتے ہیں اب علم و ہنر کے چرچے مدت ہوئی؟ وہ تو مر چکا ہے کس راه ابن مریم آئے کیوں بھولے ہو دوستو ! ادھر آؤ! کرے گا قدرت سے اپنی پیدا وہ وہ شخص مسیح مثيل اک مُردِ خدا پکارتا ہے دوراں، عيسى جس کا کیا ہے وعده جو میری اُمت کا رہنما ہے