بیت بازی — Page 813
813 کرنا ہے جس کو پار؛ وہ سرحد قریب ہے ہمت کرو؛ زمین آب و جد قریب ہے کلام طاهر ے کانٹوں نے بہت یاد کیا اُن کو خزاں میں جو گل کبھی زندہ تھے؛ بہاروں کے سہارے کیا ان کا بھروسہ ہے؛ جو دیتے تھے بھروسے لو مر گئے ، جیتے تھے جو پیاروں کے سہارے کوئی قشقہ ہے دکھوں کا نہ عمامہ، نہ صلیب کوئی ہندو ہے، نہ مسلم ہے، نہ عیسائی ہے ۷۲ ۷۳ میرے پیچھے آکے وبے رہے؛ کبھی طے کرے یونہی سوچ سوچ میں؛ وہ فراق کبھی مخلوق ہو گئی کے فاصلے میری آنکھیں موند، ہنسا کرے أوست ہمہ آرتش و آب عین ذات بنے کتنے کتنے منصور؛ چڑھ گئے سردار کتنے نعرے تعلیات بنے ۷۴ ۷۵ 22 ۷۸ 29 ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ بنے؟ مٹے کے بار؟ کتنے کرتی ہے؟ مئے مغزی کتنی بار کتنے محمود آئے؟ کتنی کہیں کتنے لات اُجڑے؛ کتنے لات بنے سومنات اُجڑے؛ اُجڑے سومنات بنے گل آنے کا جو وعدہ تھا؟ آکر تو دیکھتے تڑپا تھا کوئی کس طرح گل آپ کیلئے کنار آب جو تشنہ لبوں کی آزمائش کو کہیں گرب و بلا کا اک کڑا ویرانہ آتا ہے کبھی ذکر قتیل حیدرآباد ان پر ملتا ہے کہیں نوابشاہ کا دُکھ بھرا افسانہ آتا ہے ہے کوئٹہ کی داستان ظلم و سفا کی کہیں اوکاڑہ اور لاہور اور بچیانہ آتا ہے کہیں ہے ماجرائے گجرانوالہ کی لہو پاشی کہیں اک سانحہ ٹوپی کا سفاکانہ آتا ہے کبھی یادوں کی اک بارات یوں دل میں اُترتی ہے کہ گویا رند تشنہ لب کے گھر ئے خانہ آتا ہے ۸۵ کافور ہوا باطل؛ سب ظلم ہوئے زائل اُس شمس نے دکھلائی؛ جب شانِ خود آرائی کی سیراب بلندی پستی ؛ زندہ ہوگئی بستی بستی بادہ کشوں پر چھا گئی مستی اک اک ظرف بھرابر کھانے ۸۷ کیا ادا ہے مرے خالق ؛ مرے مالک میرے گھر چھپ کے چوروں کی طرح رات کو آنے والے کرو تیاری؛ بس اب آئی تمہاری باری یوں ہی ایام پھرا کرتے ہیں باری باری کیا موج تھی ؟ جب دل نے بچے نام خدا کے اک ذکر کی دھونی میرے سینے میں زما کے ۸۴ ۸۶ ۸۸ ۸۹