بیت بازی — Page 788
788 ۹ "1 ۱۲ ۱۴ ۱۵ ۱۷ ۱۸ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ رحمت کا رہے سایہ بڑھتا ہی رہے پایہ ہر وقت خدا رکھے، آسائش و صحت سے راضی ہو خدا تم سے؛ شیطاں ہو جدا تم سے لبریز رہے سینہ؛ ایمان کی دولت سے اپنی محبت عطا کرے آپس میں اتفاق و موت عطا کرے با کامرانی رب ورور رہی نصرت خدا کی شامل حال گزاری راہبر بتا کہاں ہیں وہ زندگی دل مضطر انہیں کہاں پائے رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی کلام طاهر راہ گیروں کے بسیروں میں ٹھکانہ کر کے بے ٹھکانوں کو بنا ڈالا؛ ٹھکانے والے روٹھ کے پانی ساگر سے جب بادل بن اُڑ جائے ساگر پاگل سا ہوکر؛ سر ساحل سے ٹکرائے روٹھا روٹھا غم کا مارا وہ بادل آوارہ دیس سے ہو کے بدیس ، کسی انجانے دیس کو جائے رسائی دیکھو! کہ باتیں خدا سے کرتی ہے دعا؛ جو قلب کے تحت الترکی سے اُٹھی ہے راہ خدا میں؛ منزلِ مرگ پہ سب مچل گئے ہم بھی رُکے رُکے سے تھے ؛ اذن ہوا، تو چل پڑے رکھ لاج کچھ ان کی ؛ مرے ستار! کہ یہ زخم جو دل میں چھپا رکھے ہیں؛ پتلے ہیں حیا کے راہ میں پر بت پاؤں پڑے بہلائے اور پھیلائے یار کسی کا اپنانے کو؛ حیلے لاکھ بنائے کلام محمود وہ راتیں تو ہوا کرتی ہیں؛ راتیں ہی ہمیشہ پر ہم کو نظر آتے ہیں؛ اب دن کو بھی تارے رہی ہے نہ تیری نہ شیطان کی کچھ ایسی ہے بگڑی؛ خدایا! خدائی روزہ نماز میں کبھی کٹتی تھی زندگی اب تم خدا کو بھول گئے؛ انتہا یہ ہے راتوں کو آکے دیتا ہے؛ مجھ کو تسلیاں مردہ خدا کو کیا کروں؟ میرا خدا یہ ہے رقیبوں سے بھی چھیڑ جاری رہے گی تعلق رہے گا؛ بدستور ہم سے رہ گئے منہ ہی ترا دیکھتے وقت رحلت ہم پسینہ کی جگہ خون بہانے والے ۲۷ رونق مکاں کی ہوتی ہے؛ اس کے مکین سے اس دلربا کو دل میں بسانا ہی چاہئے ۲۴ ۲۵ ۲۶