بیت بازی

by Other Authors

Page 65 of 871

بیت بازی — Page 65

59 65 ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۹ پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی یا خود تمہاری چادر تقویٰ ہی پھٹ گئی پھر یہ نہیں کہ ہوگئی ہے صرف ایک بات پاتا ہوں ہر قدم میں خدا کے تفضلات پر اپنے بدعمل کی سزا کو وہ پا گیا ساتھ اس کے یہ؛ کہ نام بھی کاذب رکھا گیا پر ایسے کفر پر تو؛ فدا ہے ہماری جاں جس سے ملے خدائے جہان و جہانیاں ۵۸ پھر دوبارہ ہے اُتارا تو نے آدم کو یہاں تا وہ مخل راستی اس ملک میں لاوے ثمار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا؛ یہ تیرا ہی ہے سب برگ وبار نہیں اکثر مخالف لوگوں کو شرم و حیا دیکھ کر سوسونشاں؛ پھر بھی ہے تو ہیں کاروبار پر مسیحا بن کے، میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد ؟ جس پہ میرا سب مدار پر مجھے اس نے نہ دیکھا؟ آنکھ اس کی بند تھی پھر سزا پا کر لگایا سرمئہ دنباله دار پھر ادھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار ۶۴ پھر لگایا ناخنوں تک زور بن کر اک گروہ پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ ان کو سازوار پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ور نہ اُٹھ جائے اماں؛ پھر نیچے ہوویں شرمسار پر اگر پوچھیں کہ ایسے کاذبوں کے نام لو جن کی نصرت سالہا سے کر رہا ہو کردگار پھر اگر ناچار ہو اس سے؛ کہ دو کوئی نظیر اس " مهیمن سے ڈرو؛ جو بادشاہ ہر دو دار پھر عجب یہ علم یہ تنقید آثار و حدیث دیکھ کر سو سو نشاں؛ پھر کر رہے ہو تم فرار ۶۲ ۶۳ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ رگئے پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے؛ کہ ہے ہے مر۔جبکہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار پر جو دنیا کے بنیں کیڑے؛ وہ کیا ڈھونڈیں اسے دیں اسے ملتا ہے؛ جو دیں کیلئے ہو بیقرار پھر وہ دن جب آگئے ؛ اور چودھویں آئی صدی سب سے اوّل ہو گئے منکر ؛ یہی دیں کے منار پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ جبہ دار اگر آتا کوئی؛ جیسی انہیں امید تھی اور کرتا جنگ؛ اور دیتا غنیمت بے شمار پر پر یہ تھا رحم خداوندی؛ کہ میں ظاہر ہوا آگ آتی، گر نہ میں آتا؛ تو پھر جاتا قرار پر ہزار افسوس! دنیا کی طرف ہیں جھک گئے وہ جو کہتے تھے؛ کہ ہے یہ خانہ ناپائیدار