بیت بازی — Page 64
19 64 ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۵ 3 ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ پر پھر چلے آتے ہیں یارو! زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا؛ اس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن پھر بہار دیں کو دکھلا؛ اے میرے پیارے قدیر کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن پر یہ کلام نور خدا کو دکھاتا ہے اس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے پر اپنے دیں کا کچھ بھی دکھاتے نہیں نشاں گویا وہ ربّ ارض و سما اب ہے ناتواں پابند ایسے دینوں کے دنیا پرست ہیں غافل ہیں ذوقِ یار سے؛ دنیا میں مست ہیں پھر اس سے سچی راہ کی عظمت ہی کیا رہی اور خاص وجہ صفوت ملت ہی کیا رہی نقد معجزات کا کچھ بھی نشاں نہیں پس یہ خدائے قصہ؛ خدائے جہاں نہیں پر وہ سعید؛ جو کہ نشانوں کو پاتے ہیں وہ اس سے مل کے دل کو؛ اسی سے ملاتے ہیں پھر وہ خدا جو مردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا امید ایسے سے؛ اور خوف اس سے کیا پر جس خدا کے ہونے کا کچھ بھی نہیں نشاں کیونکر نثار ایسے پہ ہو جائے کوئی جاں پھر تم تو بدگمانی سے اپنی ہوئے ہلاک خود سر پہ اپنے لے لیا خشم خدائے پاک پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مرگئے یہ کیسی عقل تھی کہ براہ خطر گئے پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈرتے رہو عقوبت رب العباد سے پر وہ جو مجھ کو کاذب و مگار کہتے ہیں اور مفتری و کافر و بدکار کہتے ہیں پس ایسے ہی ارادوں سے کر کے مقدمات چاہا گیا؟ کہ دن مرا، ہو جائے مجھ پہ رات پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصب سے بند ہے ان کی نظر میں حال مرا ناپسند ہے عجیب غفلت رب قدیر ہے دیکھے ہے ایک کو؛ کہ وہ ایسا شریر ہے چیس سال سے ہے وہ مشغول افترا ہر دن، ہر ایک رات؛ یہی کام ہے رہا پھر بھی وہ ایسے شوخ کو دیتا نہیں سزا گویا نہیں ہے یاد؛ جو پہلے سے کہہ چکا پھر یہ عجیب تر ہے؛ کہ جب حامیانِ دیں ایسے کے قتل کرنے کو فاعل ہوں یا معیں پھر بھی وہ نامراد مقاصد میں رہے ہیں جاتا ہے بے اثر وہ جو سو بار کہتے ہیں حاکم کے دل کو میری طرف اس نے کر دیا پھر پر وہ خدا جو عاجز و و مسکیں کا ہے خدا