بیت بازی

by Other Authors

Page 66 of 871

بیت بازی — Page 66

66 22 ۸۰ ۸۲ پھر رکھایا نام کافر ہو گیا مطعون خلق کفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں؛ دیکھیں گے پھر انجام کار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار و پھر یقیں کو چھوڑ کر، ہم کیوں گمانوں پر چلیں خود کہو رؤیت ہے بہتر؛ یا نقول پر غبار پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کارزار پر ہوئے دیں کیلئے یہ لوگ مار آستیں دشمنوں کو خوش کیا؟ اور ہو گیا آزر وہ یار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش ربّ ذوالمین ذوالیکن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے کیوں نہیں وہ دیکھتے؛ جو ہو رہا ہے آشکار پر وہی نافہم ملہم اول الاعداء ہوئے آگیا چرخ کریں سے ان کو تکفیروں کا تار پر خدا کا رحم ہے؛ کوئی بھی اس سے ڈر نہیں ان کو ؛ جو جھکتے ہیں اس درگہ پہ ہو کر خاکسار پھر بہار آئی؛ خدا کی بات پھر پوری ہوئی یہ خدا کی وحی ہے؛ اب سوچ لو اے ہوشیار پیشگوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ درٌ عَدَن پاک اسمائے انبیاء کر دی ند زیر صد بهت پر شاہ دو عالم کے پیرو کونین کے وارث بنتے ہیں موجود ہے جو مقصود ہے جو دونوں ہی حاصل ہوتے ہیں پہرہ ہو فرشتوں کا قریب آنے نہ پائے ڈرتا رہے شیطان؛ خدا حافظ و ناصر پوچھے دل عُشاق سے کوئی؛ کہ یہ کیا ہے کس لطف کی دیتا ہے کھٹک خار محبت پروا نہیں باقی نہ ہو بے شک کوئی چارا کافی ہے تیرے دامن رحمت کا سہارا پہنے ہے یہ ایمان کا اخلاق کا زیور یہ لعل یہ الماس و گہر تیرے حوالے پر خدا سے ڈرنے والے کب ڈرے اغیار سے بڑھ کے کب آگے قدم پیچھے ہٹا اخیار کا ۹۵ پھر نئی صورت میں ظاہر جلوہ جاناں ہوا نور پھر اترا جہاں میں مبدء الانوار کا پھینک کر شمشیر و خنجر آج دنیا کو دکھا جذب صادق رعب ایماں عاشقانِ زار کا ۹۶