بیت بازی

by Other Authors

Page 745 of 871

بیت بازی — Page 745

745 ۲۴۹ ۲۵۰ اے حُسن کے جادو! مجھے دیوانہ بنادے اے شمع رخ! اپنا مجھے پروانہ بنادے أس ألفت ناقص کی تمنا نہیں مجھ کو جو دل کو میرے؛ گوھر یکتا نہ بنادے ۳۵۱ انصاف کی کیا؟ اس سے اُمید کرے کوئی بے داد کو جو ظالم آئین وفا سمجھے ۲۵۲ اُسی کے ذر یہ؛ آب دھونی رمادوں فیصلہ یہ میرے جی نے اُسی کا فضل ڈھانپے گا میرا ستر نہ کام آئیں گے پشمینے کرینے انھیں ٹوٹا ہی سمجھو ہر گھڑی تم وہ دل جو بن رہے ہیں آبگینے آنکھوں میں نُور بن کے؛ سمایا کرے کوئی میرے دل و دماغ پر چھایا کرے کوئی ۲۵۳ ۲۵۴ ۲۵۵ ۲۵۶ کیا ہے ہے اُلجھ الجھ کے ، میں گرتا ہوں دامن تر سے مری امیدوں کی بستی؛ یونہی اُجڑتی آنکھوں میں وہ ہماری رہے؛ ابتدا یہ ہے ہم اس کے دل میں بسنے لگیں؛ انتہا یہ ہے اس کی وفا و مہر میں کوئی کمی نہیں تم اُس کو چھوڑ بیٹھے ہو؟ ر ظلم و جفا یہ ہے اپنے کرم سے بخش دے؛ میرے خدا! مجھے بیمار عشق ہوں ترا؛ دے تو شفا مجھے ۲۰ اللہ کے پیاروں کو تم کیسے بُرا سمجھے خاک ایسی سمجھ پر ہے؛ سمجھے بھی، تو کیا سمجھے ۲۵۸ ۲۵۹ ۲۶۱ ۲۶۲ ۲۶۳ ۲۶۴ اسلام کو ہے نور ملا نورِ خدا سے ہے ایسی تنویر، جو مٹتے نہیں ملتی امید کامیابی و شغلِ سُرود و رقص یہ بیل چڑھ سکے گی نہ ہرگز منڈھے تیری ٢٧٣ اُن کو فرصت ہی صلح کی؟ گب ہے؟ وقف جنگ و جدال ہیں ایسے اب تک ہے ؛ مرے قلب کے ہر گوشہ میں موجود اُن لفظوں کی تاثیر؛ جو مٹتے نہیں مٹتی ۲۶۵ انسان کی تدبیر پر غالب ہے ہمیشہ اللہ کی تدبیر جو مٹتے نہیں مٹتی آنکھ گر مشتاق ہے؛ جلوہ بھی تو بیتاب ہے دل دھڑکتا ہے مرا؛ آنکھ اُن کی بھی پر آب ہے ۲۶۷ اسلام؛ کھانے، پنے، پہننے کے حق میں ہے پر یہ نہ ہو؛ کہ نفس کو آوارہ چھوڑ دے ابلیس کا سر؛ پاؤں سے تو اپنے مسل دے ایسا نہ ہو؛ پھر کعبہ کو بت خانہ بنادے اُس کی رعنائی مرے قلب کریں سے پوچھئے حور و غلماں کی خبر؛ خُلدِ بریں سے پوچھئے استجابت کے مزے؛ عرشِ بریں سے پوچھئے سجدہ کی کیفیتیں؛ میری جبیں سے پوچھئے ۲۶۶ ۲۶۸ ۲۶۹ ۲۷۰