بیت بازی

by Other Authors

Page 746 of 871

بیت بازی — Page 746

746 ۲۷۱ ہے آسمانی بادشاہت کی خبر؛ احمد کو کس کی ملکیت ہے خاتم؛ یہ نگیں سے پوچھئے ۲۷۲ ابتدائے عشق سے دل کھو چکا ہے عقل و ہوش سر اُلفت؛ اُس نگاہ شرمگیں سے پوچھئے ۲۷۳ آسماں کی رازجوئی؛ عقل سے ممکن نہیں راز خانه پوچھنا ہو، تو مکیں سے پوچھئے اسلام کے شیدائی ہیں؛ خُوں ریزی پر مائل ہاتھوں میں جو خنجر ہیں؛ تو پہلو میں کٹارے ۲۷۵ اُلفت الفت کہتے ہیں؛ پر دل اُلفت سے خالی ہے ہے دل میں کچھ اور منہ پر کچھ ؛ دنیا کی ریت نرالی ہے اندھیاری راتوں میں سجدے کرنا؛ آب دن اک مجلس عیش کی ہے؛ ۲۷۴ ۲۷۶ ۲۷۷ تو پہلی باتیں تھیں اور رات آب صوفے کو چیں گر جا میں؛ میں اک شان ޏ رکھے رہتے ہیں سو جو ہے دیوالی ہے چٹائی ہوتی تھی؟ ظالم نے سرکا کی ہے ۲۷۸ ۲۷۹ ۲۸۰ ۲۸۱ ۲۸۲ ارے مسلم ! طبیعت تیری کیسی لاابالی ہے تیرے اعمال دنیا سے جُدا؛ فطرت نرالی ہے اس سیہ روٹی یہ شوق ملاقات ہے عبث اس ماہ رُو کا رنگ چڑھانا ہی چاہئے ادھر ہم بھید ہیں؛ اُدھر دل بضد ہے ہم اُس سے ہیں؛ اور وہ ہے مجبور ہم سے بیماری سے گھائل ؛ ایک فکروں کا شکار دیکھئے! دُنیا میں باقی یہ رہے؛ یا وہ رہے احسان ولطف عام رہے؛ سب جہان پر کرتے رہو ہر اک سے مُروت؛ خدا کرے ۲۸۳ اخلاص کا درخت بڑھے آسمان تک بڑھتی تمھاری ارادت خدا کرے رہے اُٹھتا رہے ترقی کی جانب قدم ہمیش ٹوٹے کبھی تمھاری نہ ہمت؛ خدا کرے الہی! تو بیچالے سب مسلمانوں کو ذلت سے کہ جو کچھ کر رہے ہیں؛ کر رہے ہیں وہ جہالت سے اگر رہنا ہو راحت سے تو رہ کامل قناعت سے کبھی بھی کر نہ ہو تیری زباں؛ حرف شکایت سے ادھر بھی دیکھو ادھر بھی دیکھو؛ زمیں کو دیکھو فلگ کو دیکھو تو راز کھل جائے گا یہ تم پر ؛ کہ بندہ بندہ، خدا خدا ہے ۲۸۴ ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ اس عشق میں گلاب بھی؛ اب خار ہو گئے دل کے پھپھولے جل اُٹھے؛ انگار ہو گئے اُن کو سزا بھی دی؛ تو بڑائی ہے اس میں کیا جو خود ہی اپنے نفس سے بیزار ہو۔ہو گئے ۲۹۰ اللہ کے فرشتوں کی طاقت تو دیکھ تو جو ہم کو مارتے تھے؛ گرفتار ہو گئے ۲۸۹