بیت بازی

by Other Authors

Page 744 of 871

بیت بازی — Page 744

744 ۲۲۷ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ آمد تھی اُن کی؛ یا کہ خدا کا نزول تھا صدیوں کا کام؛ تھوڑے سے عرصہ میں کر گئے ۲۲۸ اے شمع رو! بتا تیرے پروانے کیا ہوئے جل جل کے مر رہے تھے؛ جو دیوانے کیا ہوئے ابواب بغض و غدر و شقاوت ہیں کھل رہے عشق و وفا و مہر کے افسانے کیا ہوئے اميد وصل؛ حسرت و غم سے بدل گئی نقشِ قدوم یار؛ خدا جانے کیا ہوئے ان کو اظہار محبت سے ہے نفرت محمود آه میری یونہی بد نام ہوئی جاتی ہے احتیاج اک نقص ہے؛ جلوہ گری ہے اک کمال مقتضائے حسن سر شاہد و مشہور ہے اک عمر گزر گئی ہے؛ روتے روتے دامان ۲۳۴ آتا ہے؟ تو اب گنہ میں لطف آتا ہے نوبت یہ پہنچ گئی ہے؛ ہوتے ہوتے اے میری اُلفت کے طالب یہ میرے دل کا نقشہ ہے اب اپنے نفس کو دیکھ لے تو ؛ وہ ان باتوں میں کیسا ہے ابر آتے تھے؛ اور جاتے تھے دل کو ہر اک کے؛ خُوب بھاتے تھے ۲۳۷ آ اک شعاع نور کی مجھ پر بھی ڈال دے تاریکئی گناہ سے باہر نکال دے میری پیاری بیٹی ! میرے جگر کا ٹکڑا؛ میری کمر کی پیٹی ۲۳۳ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۸ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ ۲۴۳ عمل کا داغ دھوتے دھوتے ۲۳۹ آخر وہ ہوئے ثابت؛ پیغام ہلاکت کا جو غمزے مرے دل کو ؛ بے حد تیرے بھائے تھے اکسیر کا دیتے ہیں؛ آب کام وہ دنیا میں خونِ دل عاشق میں؛ جو تیر بجھائے تھے اس مرہم فردوسی میں حق ہے ہمارا بھی کچھ زخم تیری خاطر ؛ ہم نے بھی تو کھائے تھے اک دن جو آہ دل سے ہمارے نکل گئی غیرت کی اور عشق کی آپس میں چل گئی آئینہ خیال میں صورت دکھا گئے یوں گرتے گرتے میری طبیعت سنبھل گئی احوال عشق پوچھتے ہو، مجھ سے کیا؟ ندیم طبع بشر پھلنے یہ آئی، پھسل گئی ۲۴۵ ایمان مجھ کو دے دے؛ عرفان مجھ کو دے دے قربان جاؤں تیرے؛ قرآن مجھ کو دے دے آبکی عَلَيكِ كُلَّ يَومٍ وَّلَيلَةِ اَرثِيكِ يَا زَوجِی بِقَلبِ دَامِي اک پاک صاف دل مجھے پروردگار دے اور اس میں عکس حسن ازل کا اُتار دے افسردگی سے دل مِرا مُرجھا رہا ہے آج اے چشمہ فیوض! نئی اک بہار دے ۲۴۴ ۲۴۶ ۲۴۷ ۲۴۸ آبکـــى