بیت بازی

by Other Authors

Page 743 of 871

بیت بازی — Page 743

743 ۲۰۵ اگر پوچھے کوئی؛ عیسی کہاں ہے؟ تو کہہ دو؛ اُس کا مسکن قادیاں ہے ۲۰۶ اُسی کے عشق میں نکلے میری جاں کہ یاد یار میں بھی اک مزا ہے ۲۰۷ ۲۰۸ اسی سے؛ میرا دل پاتا ہے تسکیں ہے وہی آرام میری روح کا ابھی طاعون نے چھوڑا نہیں ملک نئی اور آنے والی ایک وبا ہے ۲۰۹ اف! گناہوں کا بڑا انبار ہے ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ اور میری جاں؛ نحیف و زار ہے اپنی شوکت کا وہاں اظہار ہے اپنی کمزوری کا یاں اقرار ہے کچھ ہم نے پایا ہے ہم اُسی کو پاکے؛ سب راز نهانی الہی! جیسی دولت عطا کی ہمیں توفیق دے؛ صدق و صفا کی ۲۱۳ اے مُقتندا، اے پیشوا! اے میرزا، اے رہنما ! اے مجتبی، اے مصطفے ! اے نائب رَبُّ الوَرى! انانیت پرے ہٹ جا! مجھے مت منہ دکھا اپنا میں اپنے حال سے واقف ہوں تو رکس کو بناتی ہے آریوں کو میری جانب سے سُنائے کوئی ہو جو ہمت؛ تو میرے سامنے آئے کوئی آسمانی جو شہادت ہو؛ اُسے پیش کرے یونہی بے ہودہ نہ بے پر کی اڑائے کوئی ایسی ویسی جو کوئی بات نہ ہو ویدوں میں ان کو اس طرح سے کیوں گھر میں چھپائے کوئی اگر تم دامنِ رحمت میں اپنے مجھ کو لے لیتے تمھارا کچھ نہ جاتا؛ لیک میری آبرو ہوتی اپنے کوچے میں تو کتے بھی ہیں بن جاتے شیر بات تب ہے؛ کہ مرے سامنے آئے کوئی اصل پیغام! یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو بعض احباب وفا کیش کی تحریروں سے آزمائش کیلئے تم نے چُنا ہے مجھ کو پشت پر ٹوٹ پڑے ہو مری؛ شمشیروں سے ایک تنکے سے بھی بدتر تھی؛ حقیقت میری فضل نے اُس کے بنایا مجھے شہتیروں سے ۲۲۳ اس کی شب کا نہ پوچھ تو جس کا دن بھی تاریک ۲۱۷ ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۴ المدو! ۲۲۵ بندہ بھی و تار رہتا ہے ورنہ لوگ سمجھیں گے تیرا خوار رہتا ہے اس کو بھی پھینک دیجئے گا کہیں ایک مٹھی تخبار رہتا ہے آئے بھی؛ اور آکے چلے بھی گئے وہ آہ! أيام سعد اُن کے بسرعت گزر گئے ۲۲۶