بیت بازی

by Other Authors

Page 742 of 871

بیت بازی — Page 742

742 IAA تیرے اس لطف وکرم سے تو مرے کون و مکاں ؟ ۱۸۷ اذن نغمہ تو دے؟ تو میں کیوں نہ گاؤں دمک اُٹھے ہیں، مری دھرتی چمک اُٹھی ہے آئے وہ دن، کہ ہم جن کی چاہت میں؛ پھر وہ چہرے ہویدا ہوئے، جن کی یادیں؛ گنتے تھے دن، اپنی تسکین جاں کیلئے قیامت تھیں قلب کہاں کیلئے ایسے طائر بھی ہیں؛ جو کہ خود اُن کی بگڑی بنا، میرے مشکل کشا ! اپنے ہی آشیانے کے تنکوں میں محصور ہیں چارہ کر کچھ غم ۱۸۹ 190 ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ کلام محمود بے کساں کیلئے الفت نہ اُس کی گم ہو؛ رشتہ نہ اُس کا ٹوٹے چھٹ جائے خواہ کوئی؛ دامن نہ اُس کا چھوٹے انہیں صبح و مسا ؛ دیں اور دنیا میں ترقی دے نہ ان کو کوئی چھوٹا سا بھی آزار اور دُکھ پہنچے اک طرف مرہٹوں کی فوج ہے لڑنے کو کھڑی دُوسری جا پہ ہے سکھوں نے بھی شورش کردی ایک ہی جا پہ ہیں سب رہتے بُرے اور بھلے کیا مجال؛ اُن سے کسی کو بھی جو صدمہ پہنچے ۱۹۴ رہبر راه کوئے دلبر والله غلام مصطف ہے ۱۹۵ کا انتظار چھوڑو آنا تھا جسے؛ وہ تو آچکا ہے ۱۹۶ قوم خدا کے واسطے تو بتلا ! کہ جو تیرا مدعا ہے ۱۹۷ الله چاہو عفو تقصیر دیتا ہے اُسے جو مانگتا ہے ۱۹۸ شخص کو شاد رکھے وم جو دین قویم فدا ہے 19 اُس ۱۹۹ ۲۰۰ اور اس کو نکالے ظلمتوں جو شرک میں کفر میں پھنسا ہے اگر رہنما اب بھی کوئی نہ آئے تو سمجھو کہ وقت آخری آگیا ہے ۲۰۱ اُٹھو! اس کی امداد کے واسطے تم حمیت کا یارو! یہی مقتضا ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۴ ہوا ہے ہے اُٹھو دیکھو! اسلام کے دن پھرے ہیں کہ نائب محمد کا پیدا اُسی کی شمشیر خونچکاں نے کیا قصوری کو ٹکڑے ٹکڑے یہ زلزلہ بار بار آگے؛ اسی کی تصدیق کر رہا ہے اس کے سبب سے ہند میں امن وامان ہے کے شور و شر کہیں ہے؛ نہ آہ و فغان ہے