بیت بازی

by Other Authors

Page 704 of 871

بیت بازی — Page 704

704 ۲۲ کاٹے گئے ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ تمام پودے کیا نفع اٹھایا؛ ترک دیں سے؟ گلشن دنیا میں میرے بہار کیوں ہو ہی جاں نثار کیوں ہو کام مشکل ہے بہت؛ منزل مقصود ہے دُور اے مرے اھلِ وفا! سُست کبھی کام نہ ہو کیا یہ ممکن ہے؛ کہ نازل ہو کلام قادر ظاہر اس سے مگر اللہ کی کچھ شان نہ ہو کس طرح جانیں؛ کہ ہے عشق حقیقی تم کو جیب پارہ نہ ہو؟ گر چاک گریبان نہ : رکس طرح مانوں ؛ کہ سب کچھ ہے خزانہ میں تیرے پر ترے پاس میرے درد کا درمان نہ ہو ہو کام وہ ہے؛ کہ ہو جس کام کا انجام اچھا بات وہ ہے؛ کہ جسے کہہ کے پشیمان نہ ہو رکس نے اپنے رخ زیبا پہ سے اُلٹی ہے نقاب جس سے عالم میں ہے یہ حشر بپا؛ دیکھو تو کیا ہوا تم سے جو ناراض ہے دنیا محمود کس قدر تم پہ ہیں الطاف خدا؛ دیکھو تو کونسا دل ہے جو شرمندہ احسان نہ ہو کونسی روح ہے؛ جو خائف و ترسان نہ ہو کبھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہوگا یا یونہی کہتے چلے جاؤ گے؛ تم جانے دو کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ماتھا ڈر پر کاش! تم کہتے کبھی تو؛ کہ اسے آنے دو کب تلک رستا رہے گا جانِ من! ناسُو رِ دل زخم پر مرہم لگادے؛ ہاں لگادے آج تُو کب تلک پہنا کروں اوراق جنت کا لباس چادر تقویٰ اوڑھادے؛ ہاں اوڑھادے آج تُو کچھ لوگ وہ ہیں، جو ڈھونڈتے ہیں؛ ہے تسکین دل؛ آرام کو ملتی ٹھنڈے سایوں میں جلنے میں ترے پروانے کو کیا جنگوں سے مومن کو ہے ور؛ وہ موت سے کھیلا کرتا تم اس کے سر کرنے کیلئے ؛ میدانِ وغا کو رہنے دو ہے