بیت بازی

by Other Authors

Page 703 of 871

بیت بازی — Page 703

703 ۱۰ 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ کچھ تو خوف خدا کرو لوگو! کچھ تو لوگو! خدا سے شرماؤ کرے کوئی کیا ایسے طومار کو بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو کیا یہ عجب نہیں ہے؛ کہ جب تم ہی یار ہو پھر میرے فائدے کا ہی سب کاروبار ہو ودر عدن کھٹکا نہ کوئی فعل تمہارا مجھے، تمہیں آرام قلب و جان و سکینت نصیب ہو کچھ ایسے گل ہیں، جو پژمردہ ہیں جدا ہو کر انہیں کبھی یاد رکھو؛ گلستاں میں رہتے ہو كلام طاهر کہہ رہا ہے حرام بادِ صبا جب تلک دم چلے؛ مُدام چلو کبھی ٹھہرو، تو مثل امیر بہار جب برس جائے فیض عام چلو کیسا فقیر کلام محمود گل تلک تو یہ نہ چھوڑے گا کہیں کا ہم کو آج ہی سے جو لگا ہے غم فردا ہم کو کچھ نہیں فکر ؛ لگائی ہے خُدا سے جب کو گو سمجھتا ہے بُرا اپنا پرایا ہم کو کہیں موسیٰ کی طرح حشر میں بیہوش نہ ہوں لگ رہا ہے اسی عالم میں یہ دھڑکا ہم کو کتنی ہی پل صراط کی گو تیز دھار ہو یارب! میرا وہاں بھی قدم اُستوار ہو وہ؛ جو دل کا نہ ہو غنی ہے وہ زار کیا؛ جو رنج و مصیبت سے زار ہو کسی کی موت نے سب کچھ بھلا دیا مجھ کو اس ایک چوٹ نے ہی سٹپٹا دیا مجھ کو کسی نے شانی شیطاں بنا دیا مجھ کو کسی نے لے کے؛ فرشتہ بنا دیا مجھ کو کبھی جو طالب دید رخ نگار ہوا تو آئینہ میں میرا منہ دکھا دیا مجھ کو 19 کرے اس کی اگر تو آب پاشی تو پھر ممکن نہیں بیم خزاں ہو کبھی اللہ کی قدرت کا بھی انکار ہے تجھ کو کبھی انسان کی رفعت پہ بھی اصرار ہے تجھ کو کس بات سے تم کو پہنچی تکلیف کیا صدمہ ہے؛ دل فگار کیوں ہو ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱