بیت بازی — Page 57
57 ۱۵۷ ΠΩΛ ۱۵۹ ۱۶۱ بھٹکتے پھرتے ہیں راہ انہیں ہے یار جواں کے واسطے خضرِ رہ ہے؟ جو ملاتا تو پیر کے واسطے عصا ہے بیٹھا ہے فلک پر جو؛ اُسے اب تو بلاؤ چپ بیٹھے ہو کیوں تم ؛ ہے یہی وقت دُعا کا باد سموم نے اسے مُرجھا دیا ہے کیوں؟ رہتا ہے کوئلہ کی طرح کیوں بجھا ہوا بیمار روح کیلئے خاک شفا ہوں میں ہاں کیوں نہ ہو؛ کہ خاک در مصطفے ہوں میں برکت ہے سب کی سب اسی جانِ جہان کی ورنہ میری بساط ہے کیا اور کیا ہوں میں؟ ١٠ بتلاؤ کس جگہ پہ اُسے جا کے ڈھونڈیں ہم جس کی تمام ارض و سما میں پکار ہو بے حسابی نے گناہوں کی مجھے پاک کیا میں سراپا ہوں خطا؟ مجھ کو خطا یاد نہیں بے وفائی کا لگاتے ہیں وہ کس پر الزام میں تو وہ ہوں؛ کہ مجھے لفظ دعا یاد نہیں بڑے چھوٹے سبھی کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں تو پھر تشریف کیوں لاتے نہیں وہ کعبہ دِل میں ۱۹۴ بلاتے ہیں مجھے وہ، پر جو میں اُٹھوں ؛ تو کہتے ہیں کدھر جاتا ہے او غافل میں بیٹھا ہوں تیرے دل میں بتاؤں کیا کہ مسیحا نے کیا دیا مجھ کو میں کرم خاکی تھا؛ انساں بنا دیا مجھ کو بادشاہی کی تمنا نہ کرو ہرگز تم کوچه یار یگانہ کے گدا ہو جاؤ ۱۶۷ بحر عرفان میں تم غوطے لگاؤ بَردَم بانی کعبہ کی تم کاش دُعا ہو جاؤ ہم نے کھینچی آپ ہی دیوار ہے ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ کیا بادشاہوں کو غرض پردہ بچاتا ہے ہر اک آفت سے ان کو ٹلانا ہے؛ بلائے ناگہانی بنائیں دل کو گلزار حقیقت لگائیں شاخ زھد اتقا کی ۱۷۲ بنیں ہم ۱۷۳ ۱۷۴ ۱۷۵ سب احمد و رہے برکت ہمارے آشیاں میں بنیں ہم بلبل بستان کے سب؛ خُدام احمد كلام اللہ پھیلا ئیں جہاں میں بلبلیں بھی سر پٹکتی ہیں؟ اُسی کی یاد میں گل بھی رہتے ہیں اُسی کی چاہ میں؛ سینہ فگار بات کیا ہے؟ گر وہ میری آرزو پوری کرے دے مری جاں کو تسلی ؛ دے مرے دل کو قرار بے ملے اُس کے؛ تو جینا بھی ہے بد ترموت سے ہے وہی زندہ؛ جسے اُس کا ملے قُرب و جوار