بیت بازی — Page 56
56 ۱۳۵ ۱۳۶ باپ کی ایک غمزدہ بیٹی؛ دیر کے بعد مسکرائی ہے آنکھ نمناک ہے مگر پھر بھی مسکراہٹ کیوں پر آئی ہے بند شکیب توڑ کر آنسو برس پڑے اپنوں پہ بھی نہیں ہے مجھے اختیار دیکھ ۱۳۷ بہیں اشک کیوں تمہارے؛ انہیں روک لو خدارا! مجھے دکھ قبول سارے؛ یہ ستم نہیں گوارا کلام محمود که ۱۳۸ ۱۳۹ الده ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۴ وہ آرہی ہیں بھلا مومن کو قاتل ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے نگا ہیں اُس کی بجلی ہیں ، تو آہیں اُس کی شمشیریں بشارت دینے؟ سب خورد و کلاں کو اُچھلتی کودتی؛ بے گس نواز ذات ہے تیری ہی؛ اے خدا! آتا نظر نہیں کوئی تیرے سوا مجھے بہت بھایا ہے اے محمود! یہ مصرعہ مرے دل کو مبارک ہو یہ شادی خانہ آبادی مبارک ہو برطانیہ؛ جو تم پہ حکومت ہے کر رہا تم جانتے نہیں ہو؛ کہ ہے بھید اس میں کیا ۱۴۳ بھنور میں پھنس رہی ہے کشتی دیں تلاطم بحرِ ہستی میں کیا ہے باب رحمت خود بخود، پھر تم پہ وا ہوجائے گا جب تمہارا قادر مطلق خدا ہو جائے گا بلبلہ پانی کا ہے انساں؛ نہیں کرتا خیال ایک ہی صدمہ اُٹھا کر؛ وہ ہوا ہوجائے گا بس نہیں چلتا، تو پھر میں کیا کروں، لاچار ہوں مصیبت کے اُٹھانے کیلئے تیار ہوں کسی میں رہزن رنج و مصیبت آپڑا سب متاع صبر و طاقت ہوگئی زیر و زبر ۱۳۸ بھلاؤں یاد سے کیونکر کلام پاک دلبر ہے جدا مجھ سے تو اک دم کو بھی قرآں ہو نہیں سکتا بحر مگنہ میں پھر کبھی کشتی نہ ڈوبتی ہم ناخدا، خدا کو بناتے؛ تو خوب تھا بھنبھناہٹ جو اُنھوں نے یہ لگا رکھی چیز کیا ہیں؛ یہ مخالف تو ہیں پیشہ سے بھی گم بات یہ ہے کہ یہ شیطاں کے فسوں خوردہ ہیں ان کے دل میں نہیں کچھ خوف خدائے عالم ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۴ لاؤ ہے اپنی کچھ تم میں اگر بُوئے وفا ہے خدارا! ذرا سی بھی گر تم میں بُوئے وفا ہے باز آؤ شرارتوں بجا احکام احمد کیوں ہوا بیا وجہ کیا ہے بتاؤ تو اس بات کی طوفاں یکا یک ہے یہ