بیت بازی

by Other Authors

Page 58 of 871

بیت بازی — Page 58

58 ۱۷۶ 122 127 ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۲ بس یہی اک راہ ہے؛ جس سے کہ ملتی ہے نجات بس یہی ہے اک طریقہ ؛ جس سے ہو عزة ووقار ہے چین ہے جان کریں حالت بے دھڑک اور بے خطر اس میں ہماری زار ہے گود جا کہہ کے ہر چہ باداباد یروز کشر سبھی تیرا ساتھ چھوڑیں گے کرے گا ایک وفا لا إِلهَ إِلَّا الله بلائے ناگہاں! بیٹھے ہیں ہم آغوش دِلبر میں خبر بھی ہے تجھے کچھ ؛ تو کہیں آنکھیں دکھاتی ہے ۱۸۱ ؛ بھولیو مت کہ نزاکت ہے، نصیب نسواں مرد وہ ہے؛ جو بھاگش ہو، گل اندام نہ ہو بیٹھ کر شیش محل میں نہ کرے نادانی سارکن قلعہ سا رکن قلعہ پہ پتھر نہ چلائے کوئی بات کیسے ہو مؤثر ، جو نہ ہو دل میں سوز روشنی کیسے ہو؟ دل مہبطِ انوار بھی ہو بڑھ رہی ہے خارش زخم نہاں کس طرح کھجلاؤں؛ کھجلاؤں کہاں بن کے سُورج ہے چمکتا؛ آسماں پر روز وشب کیا عجب معجز نما ہے؛ رہنمائے قادیاں بیٹھنے کا تو ذکر کیا؟ بھاگنے کو جگہ نہیں ہو کے فراخ اس قدر تنگ ہوا جہان کیوں ۱۸۳ ۱۸۴ ۱۸۵ ΔΥ رحمت باب نہ بند کیجئے گا ایک امید وار رہتا ہے برکتیں دینا؛ گالیاں سننا یہی کاروبار رہتا ہے 1A2 ۱۸۸ ۱۸۹ ١٩٠ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ بادہ نوشی میں کوئی لطف نہیں ہے؛ جب تک یار نہ ہو؛ مجلس رندان نہ ہو گر گل تازہ نہ ہو؛ بُوئے گلستان نہ ہو ا بلبل زار تو مر جائے تڑپ کر فوراً بیٹھ جاؤ ذرا پہلو میں مرے آگے؛ کہ آج سب ارادے مرے؛ ارمان ہوئے جاتے ہیں بخش دو، رحم کرو؛ شکوے گلے جانے دو مر گیا ہجر میں میں؛ پاس مجھے آنے دو بنائے جسم میں سچ ہے؟ کہ باب علم و حکمت ہیں مثالِ خضر ہمراہ طلب گار زیارت ہیں بجا ہے ساری دُنیا ایک لفظ 'میں' کا ہے نقشہ جدھر دیکھو، چمک اس کی ؛ جدھر دیکھو ظہور اس کا ۱۹۵ بھلا ۱۹۶ بس ۱۹۷ وہ آب سے اتریں کیا کریں میں کو جو اُن کی یاد تو رحم فرمائیں چلے آئیں؛ چلے آئیں بھنور میں پھنس رہی ہے، گو نہیں ہے خوف ناؤ کو بچایا جس نے نوح کو تھا؛ ناخُدا وہی تو ہے