بیت بازی — Page 659
659 ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ура ۶۴ ۶۶ ۶۷ ملاتا مجھے فکر معاش و پوشش و خور کا آئم کیوں ہو میں عشق حضرت یزداں میں جب مخمور رہتا ہوں میں سمجھا تھا؛ کہ اس کو دیکھ کر پڑ جائے گی ٹھنڈک خبر کیا تھی ؟ کہ پھٹنگ جاؤں گا جا کر اس کی محفل میں مصیبت راہ اُلفت کی کٹے گی کس طرح یا رب! میرے پاؤں تو بالکل رہ گئے ہیں پہلی منزل میں مجھے کو یہ سمجھیں؛ کہ ہوں اُلفت میں مرفوع القلم میرے پیچھے پڑ رہے ہیں سب مرے احباب کیوں ہے ہیں اس دلربا یہی کرتا ہے زائل دردِ ہجراں ملت احمد کے ہمدردوں میں؛ غمخواروں میں ہوں بے وفاؤں میں نہیں ہوں ؛ میں وفاداروں میں ہوں میں نے مانا؛ تو نے لاکھوں نعمتیں کی ہیں عطا پر میں اُن کو کیا کروں ، تیرے طلب گاروں میں ہوں ؛ مدتوں سے مر چکا ہوتا غم و انه و اندوہ سے گرنہ یہ معلوم ہوتا؛ میں تیرے پیاروں میں ہوں پر چڑھ کے غیر کہے اپنا مدعا سینہ میں اپنا جوش دبانا پڑے ہمیں ۲۸ محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں میں تیرا در چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں وہ آپ مجھ سے ہے کہتا؛ نہ ڈر، قریب ہوں میں مقابلہ پر عدو کے نہ گالیاں دوں گا کہ وہ تو ہے وہی ، جو کچھ کہ ہے؛ نجیب ہوں میں میرے پکڑنے پہ قدرت کہاں تجھے صیاد! که باغ حسن محمد کی عندلیب ہوں میں میری طرف چلے آئیں مریض رُوحانی کہ ان کے دردوں، دکھوں کیلئے ؛ طبیب ہوں میں میرے پیارے دوستو ! تم دم نہ لینا؛ جب تلک ساری دنیا میں نہ لہرائے ہوائے قادیاں منہ سے جو کچھ چاہے بن جائے کوئی؛ پر حق یہ ہے ہے بہاء اللہ فقط؛ حسن و بہائے قادیاں منبع امن کو جو تو چھوڑ کے دور چل دیا تیرے لیے جہان میں ؛ امن ہو کیوں، امان کیوں ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ منبر LL 21 ۷۹ ۸۰ مریم نے کیا ہے ختم قرآں اللہ کا ہے یہ اس مولی کی عنایت و کرم کا احساں سایہ رہے اس کے سر پہ ہرآں۔آمین مرضی ہو خُدا کی اُس کی مرضی مولیٰ کی رضا کی ہو یہ جو یاں۔آمین مولی دعا ہے پیارو! بہنو! تم کو بھی دکھائے وہ یہ خوشیاں۔آمین