بیت بازی — Page 658
658 کلام طاهر ام ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۸ ۴۹ محرومِ اذاں گر ہیں؛ اے دیس سے آنے والے بتا! تو فقط مُرغان خوش الحان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن میرے بھائی! آپ کی ہیں سخت چنچل سالیاں شعلہ جوالہ ہیں؛ آفت کی ہیں پر کالیاں منتظر میں تیرے آنے کا رہا ہوں برسوں یہ لگن تھی، تجھے دیکھوں، تجھے چاہوں برسوں کلام محمود مثل ہوش اُڑ جائیں گے؛ اس زلزلہ آنے کے دن باغ احمد پر جو آئے ہیں؛ یہ مُرجھانے کے دن مہدی آخر زماں کا ہوچکا ہے اب ظہور ہیں بہت جلد آنے والے؛ دیں کے پھیلانے کے دن مہدی آخر زماں کا کس طرح ہوگا ظہور جب نہ آئیں گے کبھی اس دیں کے اُٹھ جانے کے دن ۴۷ مجھ سے سنو ؛ کہ اتنا تغیر ہے کیوں ہوا جو بات گل نہاں تھی؟ ہوئی آج کیوں عیاں مزا جو یار پر کرنے میں ہے؛ وہ نہیں لذت حیات جاوداں میں مثال آئینہ ہے دل؛ کہ یار کا گھر ہے مجھے کسی سے بھی اس دہر میں غبار نہیں مقابلہ میں مسیح زماں کے جو آئے وہ لوگ، وہ ہیں، جنھیں حق سے کچھ بھی پیار نہیں مدت سے پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں رنج و محن کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں میری کمر کو قوم کے غم نے دیا ہے توڑ کس ابتلا میں ہائے! ہوا مبتلا ہوں میں ۵۲ میں رو رہا ہوں قوم کے مُرجھائے پھول پر بلبل تو کیا ہے؛ اس سے کہیں خوشنوا ہوں میں مرگ پسر پہ پیٹتی ہے جیسے ماں کوئی حالت پہ اپنی قوم کی؛ یوں پیٹتا ہوں میں میں کیوں پھروں ؛ کہ خالی نہیں آج تک پھرا جو تیرے فضل و رحم کا امیدوار ہوں ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۴ ۵۶ ۵۷ ۵۸ میں بیخود وہ ہوں؛ کہ تھے جس نے اُڑائے میرے ہوش مجھ کو خود وہ نگر ہوش ربا یاد نہیں مئے عشق خُدا میں سخت ہی مخمور رہتا ہوں یہ ایسا نشہ ہے؛ جس میں کہ ہردم چُور رہتا ہوں مجھے اُس کی نہیں پروا؟ کوئی ناراض ہو بیشک میں غداری کی سرحد سے بہت ہی دُور رہتا ہوں