بیت بازی

by Other Authors

Page 660 of 871

بیت بازی — Page 660

660 ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ مردوزن عشق میں تیرے ہیں برابر سرشار ہر ادا پر تیری قربان ہوئے جاتے ہیں مگر ہم کیا کریں؛ جن کے دن بھی ہوگئے راتیں مرے ہمراز ! آنکھیں بھی خُدا کی ایک نعمت ہیں ہزاروں دولتیں قربان ہوں جس پر ؛ وہ دولت ہیں وہ منہ نہ دکھلائیں دکھلائیں تو پھر ہم کیا کریں آنکھیں مگر نہیں میری طرح ہر اک ہے یہاں مُبتلائے عشق حیران ہوں ؛ کہ ڈھونڈوں میں اب نامہ بر کہاں ممکن کہاں؛ کہ غیر کرے مجھ سے ہمسری وہ دل کہاں، وہ گر دے کہاں؛ وہ جگر کہاں میری نہیں زبان؛ جو اُس کی زباں نہیں میرا نہیں وہ دل؛ کہ جو اس کا مکاں نہیں مطلوب ہے فقط مجھے خوشنودی مزاج امید خور و خواہش باغ جناں نہیں مشتاق ہے جہاں؛ کہ سُنے معرفت کی بات لیکن حیا و شرم سے چلتی زباں موت اس کی رہ میں گر تمھیں منظور ہی نہیں کہہ دو کہ عشق کا ہمیں مقدور ہی نہیں مومن تو جانتے ہی نہیں بُزدلی ہے کیا اس قوم میں فرار کا دستور ہی نہیں میرا عشق دامنِ یار سے ہے کبھی کا جا کے لیٹ رہا تیری عقل ہے؛ کہ بھٹک رہی ہے ابھی نشیب وفراز میں میں اُن کے پاؤں چھوتا ہوں؛ دل آپ کا ہے، جان آپ کی ہے؟ کیا فرماتے ہیں اور دامن چوم کے کہتا ہوں پھر آپ ہیں مُردہ نبیوں کے مُردہ مذہب ؟ مقابلہ دینِ مصطفے کا یہ دیگر ادیان کیا کریں گے لپیٹ رکھو انہیں کفن میں میں جانتا ہوں آپ کے انداز تلطف مانوں گا نہ؛ جب تک کہ مری مان نہ جائیں میں اپنے سیاہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق! وفا چاہتا ہوں کا بھلا چاہتا ہوں مجھے ہرگز نہیں ہے کسی میں دُنیا میں سب ہے پیدا میرے بال و پر میں وہ ہمت میں اس کا ہاتھ پکڑ کر نہ افلاک سے اُونچا اڑتا ہوں پر میرے دشمن کا؛ کوئی دربار نہیں، سر کار نہیں کہ لے کر قفس کو اُڑا چاہتا ہوں