بیت بازی — Page 657
657 ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۶ مردہ پرست ہیں وہ؛ جو قصہ پرست ہیں بس اسلئے وہ موردِ ذِل و شکست ہیں در عدن مانگتے ہیں سب دعا ہوکر سراپا آرزو جلد شاہ قادیاں تشریف لائے قادیاں مانگتے ہیں ہم دعائیں؟ آپ بھی مانگیں دعا حق سنے اپنے کرم سے؛ التجائے قادیاں ۲۵ مجھے دیکھ طالب منتظر؛ مجھے دیکھ شکل مجاز میں جو خلوص دل کی رمق بھی ہے؛ ترے ادعائے نیاز میں مجھے دیکھ طالب منتظر؛ مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تری جبینِ نیاز میں منتظر ہیں آئیں گے کب ؛ حضرت فضل عمر سوئے رہ نگراں ہیں؛ ہردم دیدہ ہائے قادیاں معرفت کے گل کھلیں؛ تازہ بہ تازہ ٹو بہ تو جن کی خوشبو سے مہک اُٹھے؛ ہوائے قادیاں میں کروں گا عمر بھر تکمیل تیرے کام کی میں تیری تبلیغ پھیلاڈوں گا بُررُوئے زمیں ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ منهزم ہو چکی تھی توحید جب مجھے دیکھ رفعت کوہ میں؛ مجھے دیکھ پستی کاہ میں مجھے ڈھونڈ دل کی تڑپ میں تو ، مجھے دیکھ روئے نگار میں تھا غالب آیا لشکر شیطان مجھے دیکھ عجز فقیر میں، مجھے دیکھ شوکت شاہ میں؛ نہ دکھائی دوں، تو یہ فکر کر، کہیں فرق ہو نہ نگاہ میں کبھی بلبلوں کی صدا میں سُن کبھی دیکھ گل کے نکھار میں؛ میری ایک شان خزاں میں ہے میری ایک شان بہار میں ۳۳ میرا نور شکل ہلال میں؛ میرا حسن بدر کمال میں کبھی دیکھ طرز جمال میں، کبھی دیکھ شان جلال میں؟ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ رگ جان سے ہوں میں قریب قرب تر ادل ہے کس کے خیال میں میری خطائیں سب تیرے غفراں نے ڈھانپ لیں اب بھی نگاہ لطف کے قابل نہیں ہوں میں؟ میرا کوئی نہیں ہے ٹھکانہ تیرے سوا تیرے سوا کسی کے بھی قابل نہیں ہوں میں مٹتی ہوئی خودی نے پکارا کہ اے خدا! آجا کہ تیری راہ میں حائل نہیں ہوں میں مایوس و غم زدہ کوئی اس کے سوا نہیں قبضے میں جس کے قبضہ سیف خدا نہیں مبارک ملیں؛ ان کی کھیتی سے فصلیں چلیں ان سے یارب! بہت پاک نسلیں مانا کہ ہم تیرے بھی ہیں، اور بدنما بھی ہیں ظالم بھی ہیں، شریر بھی ہیں؟ پر ریا بھی ہیں منجدھار میں کشتی دیں پار اتارے کون؟ بگڑیں؛ تو تیرے دن ہمیں بتلا سنوارے کون