بیت بازی

by Other Authors

Page 656 of 871

بیت بازی — Page 656

656 2 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 14 K در ثمین میرے دل کی آگ نے؛ آخر دکھایا کچھ اثر آگئے ہیں اب زمیں پر ؛ آگ بھڑ کانے کے دن مجھ پر ہراک نے وار کیا اپنے رنگ میں آخر ذلیل ہوگئے انجام جنگ میں میں مفتری ہوں؟ اُن کی نگاہ وخیال میں دنیا کی خیر ہے؛ مری موت و زوال میں مومن ہی فتح پاتے ہیں؛ انجام کار میں ایسا ہی پاؤ گے سخن کردگار میں محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں کہ گل مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں میں عاجز ہوں؛ کچھ بھی نہیں، خاک ہوں مگر بے خار بنده ہیں بوستاں میں پاک ہوں درگیر پاک مجھے بخش؛ اے خالق العالمین تو سبوح وَإِنِّي مِنَ الظَّلِمين مگر اس سے راضی ہو وہ دلستاں کہ اُس دن نہیں دل کو تاب و تواں مگر کوئی معشوق ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں پیارا مجھے جیسے جاں میں چوکے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں ہے یہ مگر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں مذہب بھی ایک کھیل ہے؛ جب تک یقیں نہیں جو نور سے تہی ہے؛ خدا سے وہ دیں نہیں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے؛ جہاں میں محبت ہے؛ کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے؛ خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا؟ کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے؟ کس کو سُناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں ہے وہ اسی کو؛ جو ہو خاک میں ملا ظاہر کی قیل و قال؛ بھلا کس حساب میں ۱۹ مگر ملتی نہیں کوئی بھی بُرہاں بھلا سچ کس طرح ہو جائے بہتاں مبارک کو میں نے ستایا نہیں کبھی میرے دل میں یہ آیا نہیں میں بھائی کو کیونکر ستاسکتی ہوں وہ کیا میری اماں کا جایا نہیں ۱۸ ۲۰ ملتا