بیت بازی

by Other Authors

Page 47 of 871

بیت بازی — Page 47

47 ۹۰۷ ۹۰۸ ٩٠٩ 91° ۹۱۱ ۹۱۲ ۹۱۳ ۹۱۴ ۹۱۵ ۹۱۶ ۹۱۷ ۹۱۸ انہیں اضداد میں گر زندگی میری گزرنی تھی نہ کیوں اک عقل ودانائی سے خالی کر دیا مجھ کو اب بھی کرو انکار؛ تو حیرت کیا ہے مشہور ہے؟ بے شرم کی ہے دُور بلا فضل یہ گرم؛ یہ رحم کیا طبیعت ہے؟ بادشاہوں کی اس یار میں ہو ہے اٹھی آواز جب اذاں کی؛ اللہ کے گھر سے تو گونج اُٹھے گا لندن؛ نَـعــرهُ اللهُ اکبر سے اُڑے گا پرچم توحید پھر سقف معلی پر ملیں گے دھکے دیو شرک کو گھر گھر سے دَردَر سے اے مسیحا! کبھی پوچھو گے بھی بیمار کا حال کون ہے؛ جس سے کہے جا کے دل زار کا حال آنکھ کا کام نکل سکتا ہے کب کانوں سے دل کے اندھوں سے کہوں کیا ؛ تیرے دیدار کا حال اس زمانہ میں اماموں کی بڑی کثرت ہے مقتدی ملتے نہیں؛ ان کی بڑی قلت اس پہ یہ اور ہے آفت؛ کہ ہیں باغی پیرو اور لیڈر کو جو دیکھو؛ تو وہ گم ہمت ہے اپنا لیا عدو نے ہر ایک غیر قوم کو تقسیم ہو کے رہ گئے ہو تم شعوب میں پر ستم ؛ اس سے بڑا کیا ہوگا قرض لے کر ، جو نہ دے؛ سخت ہی بد فطرت ہے ایسے اندھے کا کریں ہم کیا علاج مغز سے غافل ہے؛ چھلکے پر نظر ۹۱۹ آ کہ پھر ظاہر کریں؟ اُلفت کے راز جائیں گم؛ عمرت دراز ۲۰ اک طرف تقدیر مبرم؛ اک طرف عرض ودعا فصل کا پکڑا چھکا دے؛ اے میرے مشکل گشا ! اب تو جو کچھ تھا حوالے کر چکا دلدار کے وہ گئے دن جبکہ کہتا تھا؟ کہ میں دلدار ہوں اے عزیز دہلوی! سن رکھ یہ گوش ہوش سے پھر بہار آئی تو آئے زلزلہ آنے کے دن ۹۲۳ یہ اُٹھ کے دشمن کے مقابل پہ کھڑا ہو جا تو اپنے احباب سے ہی؛ دست وگریباں نہ ہو اپنے بیگانوں نے جب چھوڑ دیا ساتھ مرا وہ میرے ساتھ رہا؛ اُس کی وفا دیکھو تو و یورپ و امریکہ و افریقہ سب دیکھ ڈالے پر کہاں وہ رنگ ہائے قادیاں ۲۶ اک وقت آئے گا؛ کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پہ رحمت کرے ابلیس کا سر پاؤں سے تو اپنے مسل دے ایسا نہ ہو پھر کعبہ کو بت خانہ بنادے ابنِ ابراہیم بھی ہوں؛ اور تشنہ لب بھی ہوں اس لئے جاتا ہوں میں مکہ کو بامید آب ۹۲۱ ۹۲۲ ۹۲۴ ۹۲۵ ۹۲۷ ۹۲۸ ایشیاء