بیت بازی

by Other Authors

Page 48 of 871

بیت بازی — Page 48

48 ۹۲۹ ۹۳۰ ۹۳۱ ۹۳۲ ۹۳۳ ان غریبوں کو امیروں نے ڈبویا؛ افسوس! بات جو بیت چکی؛ اس پہ کریں کیا افسوس آج دنیا میں ہر اک سُو ہے شرارت پھیلی پھنس گئی پنجہ شیطان میں ہے؛ نسلِ آدم ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے ٹھیس لگ جائے ذرا سی؛ تو صدا کرتا ہے جید کلام حضرت خليفة المسيح الثالث اپنے تئیں جو آپ ہی مسلم کہا؟ تو کیا مسلم بناکے خُود کو دکھاتے؛ تو خُوب تھا اخلاق میں میں افضل ، علم و ہنر میں اعلیٰ احمد کی رہ پہ چل کر، بدرالدجی بنوں گا ا یہ شعر، در اصل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک پرانی نظم کا مطلع ہے جو کہ غالباً 1924ء کی ہے۔آپ کو صرف اس کا مطلع یاد رہ گیا تھا۔پھر 1946 ء میں اسی مطلع پر ایک نئی نظم کہی۔اسی لئے ، کلام محمود میں یہ شعر دو مختلف جگہوں پر ہے۔چنانچہ اس کتاب میں بھی یہ شعر دو بار شامل کیا گیا ہے۔اور اشعار کے شمار میں بھی اس کو دو بار شامل کیا گیا ہے۔