بیت بازی — Page 46
46 46 ۸۸۵ ۸۸۷ التجا ہے میری آخر میں یہ؛ اے پیارے مسیح حشر کے روز؛ تو محمود کا بنیو ہمدم ۸۸۶ آمد کا تیری پیارے! ہو انتظار کب تک ترسے گا تیرے منہ کو؛ یہ دل فگار کب تک ان وادیوں کی رونق ؛ کب تک رہے گی قائم یہ ابر و باد و باراں؛ یہ سبزہ زار کب تک ا کا پر جمع ہو کر بھنگیوں کے گھر بھی جائیں گے کہیں گے؛ گر کرو گے کام ان کا، تو بُرا ہوگا اکابر اگر سودے کی خاطر ہم کبھی بازار جائیں گے ہر اک تاجر کہے گا؛ جا میاں! ورنہ بُرا ہوگا ادھر بھی دیکھو اُدھر بھی دیکھو ڑ میں کو دیکھو فلگ کو دیکھو تو راز کھل جائے گا یہ تم پر ؛ کہ بندہ بندہ، خدا خدا ہے ۸۸۸ ۸۸۹ ۸۹۰ ۸۹۱ ۸۹۴ اے میرے مہربان خدا! اک نگاه مهر کانٹا جو میرے دل میں چبھا ہے؛ نکال تو ۸۹۲ اس لالہ رخ کے عشق میں ، میں مست حال ہوں آنکھیں دکھا رہا ہے مجھے؛ لال لال تُو ۸۹۳ اس عشق میں گلاب بھی؛ اب خار ہو گئے دل کے پھپھولے جل اُٹھے؛ انگار ہو گئے اُن کو سزا بھی دی؛ تو بڑائی ہے اس میں کیا جو خود ہی اپنے نفس سے بیزار ہوگئے ۸۹۵ اللہ کے فرشتوں کی طاقت تو دیکھ تو جو ہم کو مارتے تھے؛ گرفتار ہوگئے ایسی راتوں کو یاد کرتا ہوں دل مکاں ہے؛ تو ہیں مگیں راتیں اُس کی چشم نیم وا کے میں بھی سرشاروں میں ہوں درمیاں میں ہوں نہ سوتوں میں نہ بیداروں میں ہوں وا اچھل چکا ہے بہت نام لات و عزتی کا اب اپنا نام جہاں میں اچھال دے پیارے! ارادت کی راہیں؛ دکھا دے ہمیں محبت کی گھاتیں؛ سکھا دے ہمیں اک نگہ میں زالِ دُنیا چھین کر دل لے گئی رہ گئی بے کار ہو کر؛ دل رُبائی آپ کی ۸۹۶ ایسی ۸۹۷ ٨٩٨ ۸۹۹ ۹۰۰ ۹۰۱ ٩٠٢ اس کا ہر ہر قول محبت ہے زمانہ بھر پہ آج محمد! اے حبیب کردگار ! میرزا میں جلوہ گر ہے؛ میرزائی آپ کی میں تیرا عاشق تیرا دل دادہ ہوں ۹۰۳ اے میرے پیارے! سہارا دو مجھے بے گس و بے بس ہوں؛ خاک اُفتادہ ہوں ایک بے گس، نیم جاں کو آزمانا چھوڑ دے نار فرقت سے؛ میرے دل کو جلانا چھوڑ دے اپنی تدبیر و تفکر سے نہ ہرگز کام لے راہ نما ہے تیرا کامل؛ راه أو محكم بگیر ۹۰ آسماں کے راستوں سے ایک تو ہے باخبر ورنہ بھٹکے پھر رہے ہیں؛ آج سب برناؤ پیر ۹۰۴ ۹۰۵