بیت بازی

by Other Authors

Page 359 of 871

بیت بازی — Page 359

359 خوب بھڑ کی آگ؛ عالم بن گیا دارالفساد ابتداء سے کام ہے ہیزم کشی کفار کا خلقتِ اِنس میں ہے انس و محبت کا خمیر گر محبت نہیں؛ بیکار ہے انساں ہونا کلام طاهر خیرات ہو مجھ کو بھی اک جلوہ عام اس کا پھر یوں ہو؛ کہ ہو دل پر الہام، کلام اُس کا خدا کے شیرو! تمہیں نہیں زیب؛ گرجتے خوف جنگل کے باسیوں کا آگے بڑھو ! کہ زیر نگیں کرو ہر مقام کہنا دین غنچه نیم لب برگ گل کی انگڑائی دہن سا خوش ادا سا تھا تھا تکلف سا؛ بے ریا سا تھا تعلم خامشی میں؛ سرود آواز ہے گفتگو میں غزل سرا تھا ۱۳ ۱۴ ۱۶ ۱۷ ۱۹ کلام محمود خدایا! اس بنی پر، اور بنے پر ؟ فضل کر اپنا اور ان کے دل میں پیدا کر دے جوش دیں کی خدمت کا ۱۵ خاک میں مل کر ملیں گے تجھ سے یارب ! ایک دن درد جب حد سے بڑھے گا؛ تو دوا ہو جائے گا خُدارا! خواب میں ہی آکے اپنی شکل دکھلا دے بس اب تو صبر مجھ سے اے مری جاں! ہو نہیں سکتا خُدایا ! مد تیں گذریں ؛ تڑپتے تیری فُرقت میں تیرے ملنے کا کیا کوئی بھی ساماں؛ ہونہیں سکتا خاک کے پتلے تو دُنیا میں بہت دیکھے تھے پر کبھی ایسا نہ تھا نور کا پتلا دیکھا خالی ہے فرحت اور مسرت سے؛ کیا سبب رہتا ہے آبلہ کی طرح کیوں بھرا ہوا خواہ تم کتنا ہی ڈانٹو؛ خواہ تم کتنا ہی کو سو خواہ تم کتنا ہی جھڑ کو، میں تمھیں جانے نہ دوں گا خواہ مجھ سے روٹھ جاؤ ، منہ نہ سالوں تک دیکھاؤ یاد سے اپنی بھلا ؤ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا ؛ خُدایا! اے میرے پیارے خُدایا! إِلهُ العَالَميس ؛ رَبُّ البرايا خاک کر دے؛ ملا دے مٹی میں پر میرے دل کو بے وفا نہ بنا خالی اُمید ہے فضول؛ سعی عمل بھی چاہیے ہاتھ بھی تو ہلائے جا؛ آس کو بھی بڑھائے جا ٹم کی طرف نگاہ کی ساقی نے جب کبھی میں نے بھی اُس کے سامنے پیمانہ کر دیا ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵