بیت بازی — Page 349
349 ۲۱ ۲۲ ۲۳ تیرے جلووں نے بہت ذرے کئے خورشید وار خاک کی چنگی کو مثل ماہ تاباں کر دیا تیرے ذائر ہیں ترے اعجاز کے منت پذیر واپسی کے چن دئے دَر؛ دخل آساں کر دیا تیری خوں خواری مسلّم ہے آپ عشق شدید خود تو ہے کافر؛ مگر ہم کو مسلماں کر دیا ۲۴ تجھ کو روحانی خزائن ہیں مسیحا سے ملے دونوں ہاتھوں سے لٹا؛ اے صاحب جود وسخا تجھ کو ہمارا کچھ بھی نہیں غم، غضب ہوا بد تر یہودیوں سے ہوئے ہم؛ غضب ہوا ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ کلام طاهر سچے تو جگ میں کون رہا جھوٹا ہم جھوٹے تو تنگ آئے ہیں روز کی بگ بگ جھک جھک سے تم پر بھی تو ایک عدالت بیٹھے گی سچا کون رہا ہوگا کر گزرو جو کچھ تم نے کرنا ہوگا جیسا کیا ہے؛ ویسا ہی بھرنا ہوگا تم میں اگر ہے اچھا ایک ہزار بُرے ہم میں ایک بُرا تو ہزار اچھا ہوگا تیرے جلو میں ہی میرا اُٹھتا ہے ہر قدم چلتا ہوں خاک یا کو تری چومتا ہوا پا تو وہ؛ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا جاء ء الحق وزهق الباطل؛ توڑ دیا ظلمات کا گھیرا؛ دُور کیا ایک ایک اندھیرا تبلیغ احمدیت؛ دنیا میں کام اپنا ان الباطل كـ طل كان زهـــــوقـــــا دار العمل ہے گویا عالم تمام اپنا تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں؟ تمہارے خون جگر کی ہے سے ہی؛ مرے مقدر کے زائچے میں میرا بھرتا کہنا تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے تمہارے درد و الم تر ہیں؛ مری دعائیں تمہاری دولت مرے سجود و قیام کہنا تمہیں مٹانے کا زعم لے کر؛ خدا اُڑا دے گا خاک اُن کی؛ کرے گا رسوائے اُٹھے ہیں جو خاک کے بگولے عام کہنا ۳۷ تجھ پر میری جان نچھاور ؛ اتنی کر پا اک پاپی پر جس کے گھر نارائن آیا؛ وہ کیٹری سے بھی کمتر تھا