بیت بازی — Page 348
348 ۶ در ثمین ا تُو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا تیرے ملنے کیلئے ؟ ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ؛ اس ہجر کے آزار کا تو رکھتا نہیں ایک دم بھی روا جو بیوی اور بچوں ہووے جدا سے وقت کھوتا ہے کیا تجھے کیا خبر؟ عشق ہوتا ہے کیا؟ 2 Λ ۹ 1۔۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۶ تو انکار نہ ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا تو نے دن دکھایا؛ محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احساں؛ تیری ثنائیں گایا تیرا نبی جو آیا اس نے خدا دکھایا دین قویم لایا بدعات کو مٹایا تو نے اس عاجزہ کو چار دیے ہیں لڑکے تیری بخشش ہے یہ؛ اور فضل نمایاں تیرا تو نے ان چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی تو وہ حاکم ہے؛ کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا تیرے احسانوں کا کیونکر ہو بیاں ؛ اے پیارے! مجھ پہ بے حد ہے کرم؛ اے مرے جاناں تیرا پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ ہے احساں تیرا تیرے احساں ہیں اے رب البرایا مبارک کو بھی پھر تو نے جلایا تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا کہ جس کا تو ہی ہے تخت تجھے پھر ہے کس قدر اس کو سہارا سب زور و قدرت ہے خدایا سے پیارا تجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا ۱۷ تو پھر اس پر خدائی کا گماں کیا وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا ۱۸ 19 تم میں نہ رحم ہے، نہ عدالت؛ نہ اتقا پس اس سبب سے؛ ساتھ تمہارے نہیں خدا در عدن خدا پایا تیرا پایه؛ تو بس یہی پایا تیرے پانے سے ہی؛ تو نے مجموع دو عالم کو پریشاں کر دیا عاشقوں کو تُو نے سرگرداں و حیراں کر دیا