بیت بازی — Page 329
329 ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ يَا رَبِّ سَيِّرنِى بِجُنَّةِ عَفوَكَ كُن نَاصِرِى وَمُصَاحِبِي وَمُحَامِي ٢١٩ يَا رَبِّ صَاحِبَهَا بِلُطفِكَ دَائِماً وَاجعَل لَّهَا مَاوّى بِقَبْرِ سَامِي يَا رَبِّ أَنعِمهَا بِقُربِ مُحَمَّدٍ دى المجد والإحسان والاكرام يَا هَادِيَ الْأَرْوَاحِ كَاشِفِ هَمِّهَا جنابِبَابِكَ طَالِبيْنَ هُدَاكَ يَا رَازِقَ الثَّقَلَيْنِ أَينَ جَـنَـاكَ جيْنَاكَ رَاجِيْنَ لِبَعْضِ نَدَاكَ يَا أَيُّهَا المَنَّانُ مُنُ بِرَحمَةِ وَارزُق قُلُوبَ عِبادِكَ تَقوَاكَ يَا مَن تَخَافُ عَدُوَّكَ مُتَزَحْزِها عِندَ المَلِيكِ المُقْتَدِرِ مَثْوَاكَ یا تو سرگردان تھا دل بجستجوئے یار میں یا ہے اُس یارا زل کو؛ خو د مرے دل کی تلاش یکتا ہے تو ؛ تو میں بھی ہوں اک منظر د وجود میرے سوا ہے آج محبت کیسے تیری یہ دیکھ کر کہ دل کو لیے جا رہے ہیں وہ میں نے بھی اُن کے حُسن کا نقشہ اُڑالیا یہ فخر گم نہیں مجھ کو؛ کہ دل مسل کے مرا وہ پیار سے مجھے خانہ خراب کہتے ہیں یہ تم کو ہو گیا کیا؟ اہلِ ملت! نہیں کیا یاد وہ وعدے وفا کے؟ یہ مُنہ ہیں؟ کہ آہن گروں کی دھونکنیاں ہیں دل سینوں میں ہیں؛ یا کہ سپیروں کے پٹارے یاں عالم اُن کو کہتے ہیں؟ جب دیکھو! بھیڑیا نکلے گا؟ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۷ ۲۳۸ جو دین کورے ہوتے ہیں جو بھیڑوں کا رکھوالی ہے یہ کھیل اضداد کی عرصہ سے تیرے گھر میں جاری ہے کبھی ہے مارکس کا چرچا؟ کبھی درس بخاری ہے سے یہ ظاہر میں غلامی ہے؛ مگر باطن میں آزادی نہ ہونا منحرف ہرگز؛ محمدؐ کی حکومت یہ خد وخال کب تک یہ چال ڈھال کب تک اس حُسنِ عارضی میں؛ آخر نکھار کب تک یہی ہو گا نا؛ غحصہ میں وہ ہم کو گالیاں دیں گے سُنائیں گے وہ کچھ ؛ پہلے نہ جو ہم نے سُنا ہوگا یا کو ہمہ تن نیاز ہو جا گھر تو تو نے بنایا تھا؛ اپنے رہنے کو بُتوں کو کعبہ دل سے نکال دے پیارے! یہ نہ سمجھے؛ کہ وہ دن کھائے پیئے جیتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں ، مگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں یا فاتح روح ناز تہ ہو جا