بیت بازی

by Other Authors

Page 330 of 871

بیت بازی — Page 330

330 ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۶ ۲۴۷ یہ آریہ کہتے ہیں؟ کہ لیکھو ہے شہید ایسی تو نہ تھی ہم کو بھی اُن سے اُمید متاع ہوشِ دینداری کبھی لٹنا بھی ہے اس جہاں کی قید و بندش سے کبھی چھٹنا بھی ہے یہ کیسا پیار ہے اہل و عیال سے تیرا شکم غریبوں کا انگاروں سے جو بھرتا ہے یک قلم ملک سے موقوف ہوئے ؛ شورش وشر نہ تو رہزن کا رہا کھٹکا نہ چوروں کا ڈر یا الہی رحم کر اپنا؟ کہ میں بیمار ہوں دل سے تنگ آیا ہوں؛ اپنی جان سے بیزار ہوں يا البي! تری اُلفت میں ہوا ہوں مجنوں خواب میں ہی کبھی ، میں تجھ کو جو پالوں تو کہوں یا الہی! آپ ہی اب میری نصرت کیجئے کام میں لاکھوں؛ مگر ہے زندگی مثل حباب یا الہی! عمر طبعی اس کو دے رکھ اسے محفوظ رنج و درد سے یا صدق محمد عربی ہے؛ یا احمد ہندی کی ہے وفا باقی تو پرانے قصے ہیں؛ زندہ ہیں یہی افسانے دو ۲۸ یاد ایام؛ کہ تھے ہند پر اندھیر کے سال ہر گلی کوچہ پہ؛ ہر شہر پہ آیا تھا وبال یاد ہیں قرآن کے الفاظ تو ان کو تمام اور پوچھیں؟ تو ہیں کہتے، یہ ہے اللہ کا کلام گنگا تو اُلٹی ہے جا رہی ہے جو مسلم کی دولت تھی؛ کافر نے کھائی یہ نور کے شعلے اٹھتے ہیں؟ میرا ہی دل گرمانے کو جو بجلی افق میں چپکی ہے؛ چپکی ہے مرے تڑپانے کو یہ وہ بیمار تھا؛ جس کو سبھی رو بیٹھے تھے ہاتھ سب اس کی شفایابی سے؛ دھو بیٹھے تھے یہ دم ہے غنیمت؟ کوئی کام کر لو کہ اس زندگی کا بھروسہ ہی کیا ہے ۲۵۴ یہی ہے کہ گمراہ تم ہو گئے ہو نہ پہلا سا علم؛ اور نہ وہ اتقا ایک دریائے معرفت ہے؟ تو اس کی نظروں میں ساری دنیا؛ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۲ ۲۵۳ ۲۵۵ ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۵۸ ۲۵۹ یہ لگائے اس میں جو ایک غوطہ فریب ہے ہے جھوٹ ہے دعا ہے یہ چلتے ہیں یوں اکڑا کٹر کر ؛ کہ گویا ان کے ہیں بحر اور بر پڑے ہیں ایسے سمجھ پہ پتھر ؟ کہ شرم ہے کچھ نہ کچھ دیا ہے یہ بھی اسی کے دم سے ہے؛ نعمت تمہیں ملی تا شکر جان و دل سے؛ خدا کا کرو ادا یہ رعب اور شان بھلا اس میں تھی کہاں یہ دبدبہ تھا قیصر روما کو کب ملا یونہی کہو نہ ہمیں لوگو! کافر و مرتد ہمارے دل کی خبر تم پر آشکار نہیں