بیت بازی

by Other Authors

Page 325 of 871

بیت بازی — Page 325

325 ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ یہ قصص عجیب و غریب ہیں؛ یہ محبتوں کے نصیب ہیں مجھے کیسے خود سے جدا کرے؛ اسے کچھ بتاؤ کہ کیا کرے یارب! یہ گدا تیرے ہی ڈر کا ہے سوالی جو دان ملا؟ تیری ہی چوکھٹ سے ملا ہے یادوں کے مسافر ہو؛ تمناؤں کے پیکر بھر دیتے ہو دل پھر بھی؛ وہی ایک خلا ہے یہ محبتوں کا لشکر جو کرے گا فتح خیبر ذرا تیرے بغض ونفرت کے حصار تک تو پہنچے خبر ہے گرم یارب! کہ سوار خواهد آمد کروں نقدِ جاں نچھاور؛ مِرے دار تک تو شجر خزاں رسیدہ؛ مجھے ہے عزیز یارب! یہ اک اور وصل تازہ کی بہار تک تو آج بھی دیکھنا مروحق کی دعا؟ کے مقابل بنا اثر دھا سحر کی ناگنوں کو نگل جائے گی جب اُن کی گھٹا کی طرح بجلیاں دل پہ کڑکیں بلا کی طرح ذکر ان کا چلا ئم ہوا کی طرح رت بنی خوب آہ و فغاں کیلئے پئجاری؛ اے دیس سے آنے والے بتا! دعا ہی کا تھا معجزہ کہ عصا ساحروں یاد آئی زر کے بیچنے والے ہیں دین و ایمان وطن کس حال میں ہیں یاران وطن و روز و ماه و سال؛ تمام عشق وفا و پیمانه صفات بنے؟ کے کھیت؛ موسم بدلیں گے، رُت آئے گی؟ پیار رضا کے خوشوں سے لد جائیں گے ساجن کے درسوں کی یہ بات نہیں وعدوں کے لمبے لیکھوں کی ، تم دیکھو گے ہم آئیں گے، جھوٹی نکلے گی؛ لاف خدا نائرسوں کی یہی راہیں، کبھی سکھر، کبھی سکرنڈ جاتی ہیں انہی پر پنوں عاقل، وارہ اور لڑکا نہ آتا ہے یہ کیا انداز ہیں؛ کیسے چکن ہیں، کیسی رسمیں ہیں انہیں تو ہر طریق نامسلمانانہ آتا ہے یہ دل نے کس کو یاد کیا؛ سپنوں میں یہ کون آیا ہے جس سے سپنے جاگ اٹھے ہیں ؛ خوابوں نے نور کمایا ہے یہ کون ستارہ ٹوٹا ، جس سے سب تارے بے نور ہوئے کسی چند رما نے ڈوب کے اتنے چاندوں کو گہنایا ہے یہ کس نے میرے درد کو جینے کی طلب دی دل کس کیلئے عمر خضر مانگ رہا ہے ۱۵۶ یہ کائنات ازل سے نہ جانے کتنی بار خلا میں ڈوب چکی ہے؛ خلا سے اُٹھی ہے ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۵۵