بیت بازی

by Other Authors

Page 298 of 871

بیت بازی — Page 298

298 ہمیں اُس یار سے تقویٰ عطا ہے ہر اک نیکی کی جڑ؟ اتقا ہے اگر ہر ہم سے؛ کہ احسانِ خدا ہے جڑ رہی؛ سب کچھ رہا ہے اک نعمت سے تو نے بھر دیا جام ہر اک دشمن کیا مَردُود و ناکام ہوا مجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی فسبحان الذى اخزى الاعادي تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر! سے مجھ کو شفا دی مرض گھٹتا گیا؛ جوں جوں دوا دی ہوا آخر ہر اک آزار وہی ؛ جو تیری ہوئے ہم تیرے؛ اے قادر توانا تیرے در کے ہوئے اور تجھ کو جانا ہے ہمیں بس تری درگه آنا مصیبت ޏ ہمیں ہر دم بچانا ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی فسبحان الذى اخزى الاعادي ہوا انجام کا ނ نامرادی فسبحان الذى اخزى الاعادي ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تُو نے کر دیا مات ہر اک بگڑی ہوئی تو نے بنا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي پر ہر اک بد خواہ اب کیوں روسیہ ہے کہ وہ مثل خسوف مہرومہ ہے ہے دیں وہی؛ کہ جس کا خدا آپ ہو عیاں خود اپنی قدرتوں سے دکھاوے؛ کہ ہے کہاں ہردم نشان تازه کا محتاج ہے بشر قصوں کے معجزات کا ہوتا ہے کب اثر ہر دم کے خبث و فسق سے دل پر پڑے حجاب آنکھوں سے ان کی چھپ گیا ایماں کا آفتاب ہر چیز میں خدا کی ضیاء کا ظہور ہے پھر بھی غافلوں سے وہ دلدار دُور ہے ہے یہ خدا نے کہا مجھ کو آج رات ہوگا تمہیں کلارک کا بھی وقت خوب یاد جب مجھے پہ کی تھی تہمت خوں آزرو فساد ہشیاری مستغیث بھی اپنی دکھاتا تھا سوسو خلاف واقعہ باتیں بناتا تھا ہم مفتری بھی بن گئے؛ ان کی نگاہ میں بے دیں ہوئے؛ فساد کیا حق کی راہ میں کیا جانے قدر اس کا جو قصوں میں ہے اسیر ہر روز اپنے دل سے بناتا ہے ایک بات ہوتا ہے کردگار اسی ره کہتا ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ لده ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴