بیت بازی

by Other Authors

Page 297 of 871

بیت بازی — Page 297

297 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ہائے! یہ کیا ہو گیا؛ عقلوں پہ کیا پتھر پڑے ہو گیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار ہائے! وہ تقویٰ جو کہتے تھے کہاں مخفی ہوئی ساربان نفسِ دُوں نے کس طرف پھیری مہار ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال وحسن میں جس نے اک چمکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار ۱۵ ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں؛ دین محمد سا نہ پایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور؛ اُٹھو! دیکھو سنایا ہم نے ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل ! تیرے بڑھنے سے؛ قدم آگے بڑھایا ہم نے ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم مگر دل میں رکھتا وہ رنج و ائم ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ ہوا غیب ایک چولہ عیاں ޏ خدا کا کلام اُس بے گماں تھا ہوا حکم، بہن اس کو اے نیک مرد! اتر جائے گی اس سے وہ ساری گرد ہر اک کہتا تھا دیکھ کر اک نظر کہ ہے اُس کی آنکھوں میں کچھ جلوہ گر ہے پاک پاک قدرت ، عظمت ہے اس کی عظمت لرزاں ہیں اہلِ گر بت؛ کروبیوں قُربت؛ پہ ہیبت ہے عام اس کی رحمت؛ کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اُس کی صنعت؛ اس سے کرو محبت ہو شکر تیرا کیونکر؟ اے میرے بندہ پرور! تو نے مجھے دیئے ہیں یہ تین تیرے چاکر ہے آج ختم قرآں نکلے ہیں دل کے ارماں تو نے دکھایا یہ دن؛ میں تیرے منہ کے قرباں ہم تیرے در پہ آئے؛ لے کر اُمید بھاری به روز کر مبارک سبـــحـــــان مــــن يـــرانـــی ہے یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مــــن يـــرانـــی ہے چشمہ ہدایت؛ جس کو ہو یہ عنایت یہ ہیں خدا کی باتیں؛ ان سے ملے ولایت ہے عجب میرے خدا! میرے پہ احساں تیرا کس طرح شکر کروں؛ اے مرے سُلطاں تیرا ہر مصیبت سے بچا؛ اے میرے آقا ہردم حکم تیرا ہے؛ زمیں تیری ہے، دوراں تیرا کہ اس کو بھی ملے گا بخت برتر ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ہر غم سے دور رکھنا؛ تو ہوا اک خواب میں رب عالمیں مجھ ہدایت کر انھیں میرے پہ اظہر خداوند کہ بے توفیق کام آوے نہ کچھ پند