بیت بازی

by Other Authors

Page 299 of 871

بیت بازی — Page 299

299 ۵۷ ۵۸ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۵۶ ہو گئے بے کار سب حیلے؛ جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا؛ مثل غبار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران و نفع ، عسر و ئیسر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار ہائے! میری قوم نے تکذیب کر کے کیا لیا زلزلوں سے ہو گئے صدہا مسارکن مثل غار ۵۹ ہے سررہ پر میرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں؛ اے شریران دیار ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف وہ بلاتے ہیں؛ کہ ہو جائیں نہاں ہم زیر غار ہائے! مار آستیں وہ بن گئے دیں کیلئے وہ تو فربہ ہوگئے؟ پر دیں ہوا زار ونزار ہم جگہ میں ان کی دجال اور بے ایماں ہوئے آتشِ تکفیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار ہے کوئی کاذب جہاں میں؛ لاؤ لوگو کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار ہر قدم میں میرے مولیٰ نے دئے مجھ کو نشاں ہر عدو پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار ہے یہ گھر گرنے پہ؛ اے مغرور ! لے جلدی خبر تا نہ دب جائیں ترے اہل و عیال و رشتہ دار ہوش میں آتے نہیں؛ سو سو طرح کوشش ہوئی ایسے کچھ سوئے ؛ کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار ہے غضب؛ کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس اُمت کا قصوں پر مدار خدادانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفان مولی کا نشاں جس کو یہ کامل ملے؛ اُس کو ملے وہ دوستدار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے؛ وہ آئے گا انجام کار ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں ہاں مگر توبہ کریں باصد نیاز و و انکسار ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں دیں کی کچھ پروا نہیں؛ دنیا کے غم میں سوگوار ے ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نقار ہم اسی کے ہوگئے ہیں؛ جو ہمارا ہو گیا چھوڑ کر دنیائے دُوں کو؛ ہم نے پایا وہ نگار ہمارے دل میں اک بُت بنایا ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۴ ۷۵ ۷۶ ہے ہر اک عاشق نے ہے ہوا ظاہر وہ مجھ پر بے لايـــــــادي یہ دلبر سمایا فسبحان الذى اخزى الاعادي ہمیں ره خدا نے خود دیکھا دی فسبحان الذى اخزى الاعــــادي