بیت بازی

by Other Authors

Page 278 of 871

بیت بازی — Page 278

278 ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۸ نگا ہوں مجھ نے تری؛ پر کیا ایسا فسوں ساقی کہ دل میں جوش وحشت ہے؛ تو سر میں جنوں ساقی ہے نہ صورت امن کی مسجد میں پیدا ہے؟ نہ مندر میں زمانہ میں یہ کیسا ہورہا ہے گشت و خُوں ساقی ۱۴۰ ناصح وہ اعتراض تیرے کیا ہوئے بتا یکتا کے پیار نے مجھے یکتا نہ کر دیا؟ نیزه دشمن تیرے سینہ میں پیوستہ نہ ہو اُس کے دل کے پار ہو سوفار تیرے تیر کا ناز سے،غمزہ سے عشوہ سے فسوں سازی سے لے گئے دل کو اُڑا کر مرے؛ رکن گھاتوں سے ، ۱۴۳ نکلے گی وصل کی کوئی صورت کبھی ضرور چاہت تجھے مری ہے؛ تو چاہت مجھے تری نکلا تھا میں؟ کہ بوجھ اُٹھاؤں گا اُن کا میں لیکن اُنھوں نے گود میں مجھ کو اُٹھا لیا ناراضگی سے آپ کی آئی ہے کب ہے لب پہ جاں اب تھوک دیجے حصہ؛ بہت کچھ ستا لیا ۱۴۶ نقصاں اگر ہوا؟ تو فقط آپ کا ہوا دل کو ستا کے؛ اے میرے دلدار کیا لیا ۱۴۷ نگاہ یار سے ہوتے ہیں سب طبق روشن رُمُوزِ عِشق کی اس کو کتاب کہتے ہیں نہ واپس آیا دل اُس در پہ جا کے وہیں بیٹھا رہا دھونی رما کے نکالا مجھے؛ جس نے میرے چمن سے میں اُس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں نظر نہ آئے وہ مجھ کو؛ یہ کیسے ممکن ہے حجاب آنکھوں کے آگے سے؛ تو ہٹا تو سہی ۱۵۱ نکلتے ہیں کہ نہیں رُوح میں پر پرواز تو اپنی جان کو اس شمع میں جلا تو سہی نکل گئے جو ترے دل سے خار کیسے ہیں جو تجھ کو چھوڑ گئے، وہ نگار کیسے ہیں نہ آرزوئے ترقی نہ صدمہ ذلت خُدا بچائے؛ یہ لیل و نہار کیسے ہیں نہ حُسن خلق ہے تجھ میں نہ حُسن سیرت ہے تو ہی بتا کہ یہ نقش و نگار کیسے ہیں نہ غم سے غم نہ خوشی سے میری تجھے ہے خوشی خُدا کی مار؛ یہ قرب و جوار کیسے ہیں ۱۵۶ نہ دل کو چین؛ نہ سر پر ہے سایہ رحمت ستم ظریف! یہ باغ و بہار کیسے ہیں نہ وصل کی کوئی کوشش نہ دید کی تدبیر خبر نہیں؛ کہ وہ پھر بے قرار کیسے ہیں ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۵۵ ۱۵۷ ؛ ۱۵۸ نہ خُدا سے ہے محبت نہ محمد سے ہے پیار ؛ تم کو وہ دیں سے عداوت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں