بیت بازی — Page 279
279 ۱۵۹ 17۔۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ نام اسلام کا ہے؛ کفر کے ہیں کام تمام اس پہ پھر ایسی رعونت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں نحه وصل خُدا ہے بس میری دُکان پر ہر جگہ پر دیکھ لیجے گا؟ کہیں سے پوچھیئے نہیں بے چارگی و جبر کا دخل ان کی محفل میں جو آیا ان کی محفل میں؛ وہ چپل کے سر کے بل آیا دیکھنا مولوی کی ڈھٹائی نبوت منکر؛ وراثت کا دعوی ذرا تور فخر آں کی تجلی ہے زمانہ بھر میں آج احمد ثانی نے رکھ لی احمد اول کی لاج نام تیرا کر رہے ہیں ساری دنیا میں بلند جان ہتھیلی پر دھرے؛ سر پر کفن باندھے ہوئے نہ پھول اے ابن آدم ! اپنے دادا کی حکایت کو نکالا تھا اُسے ابلیس نے ؛ دھوکا سے، جت سے وه قعر دوزخ میں جل رہا ہے؟ یہ اپنے مولی نگاہ کافر زمیں نگاه مومن فلک نیچے؛ اوپر جا ملا ہے ۱۶۷ نکال دے میرے دل سے خیال غیروں کا محبت اپنی؛ میرے دل میں ڈال دے پیارے! ۱۶۸ ۱۷۰ 121 نہ آئیں اُس کے بُلانے پہ وہ ہے ناممکن جو شخص عشق کی راہوں میں دل گداز کرے 19 ٹور کے سامنے ظلمت بھلا کیا ٹھہرے گی جان لو! جلد ہی اب ظلم صناديد اُٹھا نہیں مجھ دُعائے یونس کے رہا کوئی بھی چارہ کہ غم و الم کی مچھلی مجھے آب نگل رہی ہے نظر آ رہی چمک وہ حُسنِ ازل کی شمع حجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں ۱۷۲ نماز چھوٹے ، تو چھٹ جائے کچھ نہیں پروا مگر حرام کی روٹی مدام کھاتا ہے نہیں ممکن، کہ میں زندہ رہوں ؛ تم سے جدا ہو کر رہوں گا تیرے قدموں میں ؛ ہمیشہ خاک پا ہو کر پر بوجھ ہی ڈالو گے؛ تو ہوگی اصلاح اونٹ لدتے ہیں؟ یونہی چیخنے چلانے دو ۷۵ نہ مئے رہے، نہ رہے خم نہ یہ سبو باقی بس ایک دل میں رہے؛ تیری آرزو باقی آئیگا مسلمانوں کا رہبر ؛ کوئی باہر جو ہوگا؛ خود مسلمانوں کے اندر سے کھڑا ہوگا نہ پھولو دوستو ! دُنیائے دُوں پر کہ اس کی دوستی میں بھی؛ زیاں ہے ۱۷۳ ۱۷۴ نفس : ۱۷۶ 122 IZA ۱۷۹ نہیں دنیا میں جس کا جوڑ کوئی ہمارا پیشوا وہ پہلواں ہے نام لکھوا کر مسلمانوں میں؟ تو خوش ہے عزیز! پر میں سچ کہتا ہوں ؛ یہ ہیں خونِ دل کھانے کے دن