بیت بازی

by Other Authors

Page 277 of 871

بیت بازی — Page 277

277 112 ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ نہ پایا دوسرا تجھ سا کوئی بھی زمین نہ کی ہم نے کمی کچھ مانگنے میں مگر نہیں آرام پل بھر بھی میتر نوید راحت افزا آ رہی ہے و وہ آسماں ب چھان نکلے بخششوں کی کان نکلے ہے اس ظالم نے کچھ ایسا ستایا بشارت ساتھ اپنے لا رہی ہے چھلک رہا ہے میرے غم کا آج پیمانہ وہ نہ چھیڑ، دشمن ناداں! نہ چھیڑ کہتا ہوں نہ تیرے ظلم سے ٹوٹے گا رشتہ الفت نہ حرص مجھ کو بنائے گی اُس سے بیگانہ ندیاں ہر طرف کو بہتی تھیں قلب صافی کا قلب صافی کا حال کہتی تھیں نغمہ سُن سُن کے اُس کے؛ سب خوش تھے مگر دل فگار بیٹھی تھی ناز فرقت میں جل رہا تھا میں گو پسِ پردہ اک ظہور بھی تھا نگاه لطف میری جستجو میں بڑھتی آتی ہے ہوں وہ میخوار؛ جس کے پاس خود میخانہ آتا ہے نہیں کوئی بھی تو مُناسبت ره شیخ و طرز آیاز میں اُسے ایک آہ میں مل گیا؟ نہ ملا جو اُس کو نماز میں نظر آ رہا ہے وہ جلوہ حُسنِ ازل کا شمع حجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں ناامیدی اور مایوسی کے بادل پھاڑ حوصلہ میرا بڑھا دے؛ ہاں بڑھا دے آج تُو نہ ہے باپ اُس کا نہ ہے کوئی بیٹا ہمیشہ سے ہے؛ اور ہمیشہ رہے گا نہیں اُس کو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اُس کو کچھ ساتھیوں کی ۱۳۲ نغمہ ہائے چمن ہوئے خاموش کیا ہوا کس طرف ہزار گیا نَزَلَتْ مَلَّئِكَةُ السَّمَاءِ لِنَصْرِهِ قَدْ فَاقَتِ الْأَرْضُ ســمـى بِظُلُوْمِهَا نشگـوامــام النَّاسِ غَصَّ جَفَاكَ وَالْحَقُّ لَيْسَ وَفَاءُ نَا كَوَفاكَ نعمت وصل بے سوال ہی دے اپنے عاشق کو بے حیا نہ بنا نہ ہو میر جو حریت تو ہے بے وطن ، آدمی وطن میں قفس قفس ہی رہے گا پھر بھی ہزار رکھوا سے چمن میں ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ دے نظر بظاہر ہے عاشقوں اور مالداروں کا حال یکساں وہ مست رہتے ہیں اپنی دھن میں؟ مست رہتے ہیں اپنے دھن میں