بیت بازی

by Other Authors

Page 265 of 871

بیت بازی — Page 265

265 ۵۰۷ ۵۰۸ ۵۰۹ ۵۱۰ ۵۱۱ ۵۱۲ ۵۱۳ ۵۱۶ منٹ منٹ مسحور مردوں کی طرح باہر نکلو اور ناز و اڈا کو رہنے دو سل رکھ لو اپنے سینوں پر ؛ اور آہ و بکا کو رہنے دو مسلم جو خُدا کا بندہ تھا افسوس کہ اب یوں کہتا ہے اسباب کرو کوئی پیدا؛ جبریل و خُدا کو رہنے دو مرا امتحان لیتے ہیں قدم قدم پہ مصیبت یہ آن پڑتی ہے مانے نہ مانے اس سے کیا؟ بات تو ہوگی دو گھڑی قصه دل طویل کر؛ بات کو تو بڑھائے جا منزلِ عشق ہے کٹھن ؛ راہ میں راہزن بھی ہیں پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تو ؟ آگے قدم بڑھائے جا کر دیا مجھے دیوانہ کر دیا تیری نگاہِ لطف نے کیا کیا نہ کر دیا میری شکایتوں کو ہنسی میں اُڑا دیا لایا تھا جو میں سنگ؛ اُسے دانہ کر دیا ۵۱۴ مدتوں کھیلا کیا ہے لعل و گوہر سے عدو اب دکھا دے تو ذرا جوہر اُسے شمشیر کا ۵۱۵ میں دل و جاں بخوشی اُن کی نذر کر دیتا ماننے والے اگر ہوتے وہ سوغاتوں سے میرا مقدور کہاں؛ شکوہ کروں اُن کے حضور مجھ کو فرصت ہی کہاں اُن کی مُناجاتوں سے ۵۱۷ مارے، جلائے ، کچھ بھی کرے، مجھ کو اس سے کیا مجلس میں اُس کے پاس رہوں؛ مُدعا یہ ہے مٹ جائے میرا نام؛ تو اس میں حرج نہیں قائم جہاں میں عزت و شوکت رہے تری میداں میں شیرئر کی طرح لڑ کے جان دے گردن کبھی نہ غیر کے آگے جھکے تری محسن بدمیں کی صحبت حق کی خاطر چھوڑ دی کافر نعمت بنا؛ لیکن مسلماں ہو گیا میں دکھانا چاہتا تھا اُن کو حال دل؛ مگر وہ ہوئے ظاہر تو دل کا درد پنہاں ہوگیا میں بڑھا اِک گز ؛ تو وہ سو گز بڑھے میری طرف کام مشکل تھا مگر اس طرح آساں ہو گیا مرے ہی پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھ سکے؛ افسوس اُنھیں تو سامنے آنے میں کچھ حجاب نہ تھا ۵۲۴ میں مانگنے گیا تھا کوئی اُن کی یادگار لیکن وہاں اُنھوں نے میرا دل اُڑا لیا ۵۲۵ میں صاف دل ہوں مجھ سے خطا جب کبھی ہوئی آب مجال سے میں اُسی دم نہا لیا میں جانتا ہوں آپ کے انداز تلطف مانوں گا نہ؛ جب تک کہ مری مان نہ جائیں ۵۲۷ مجھے دلگیر جب بھی دیکھتے ہیں بیٹھا لیتے ہیں پاس اپنے بلا کے میرے کانوں میں آوازیں خُدا کی تیرے کانوں میں ایچ بم کے دہما کے ۵۱۸ ۵۱۹ ۵۲۰ ۵۲۱ ۵۲۲ ۵۲۳ ۵۲۶ ۵۲۸