بیت بازی — Page 264
264 ۴۸۶ ۴۸۷ ۴۸۸ ۴۸۹ ۴۹۰ میں اُن کے پاؤں چھوتا ہوں؛ دل آپ کا ہے، جان آپ کی ہے؛ کیا فرماتے ہیں اور دامن چوم کے کہتا ہوں پھر آپ مسند کی آرزو نہیں؛ بس جوتیوں کے پاس درگہ میں اپنی مجھ کو بھی اک بار، بار دے میرے دل و دماغ پر چھا جا؛ او خُوبرُو! اور ماسوا کا خیال بھی دل سے اُتار دے ممکن نہیں کہ چین ملے وصل کے سوا فرقت میں کوئی دل کو تسلی ہزار دے میرے محمود! بن میرا محمود مجھے کو تو سیرت ایازی بخش ۴۹۱ مجھ کو تیری مخمور نگاہوں کی قسم ہے اک بار ادھر دیکھ کے مستانہ بنا دے ۴۹۲ ۴۹۳ ۴۹۴ ۴۹۵ ۴۹۶ ۴۹۷ ۴۹۸ ۴۹۹ مُنِعَ العُلُومَ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا صَبَّت سماء العلم مَآءَ غُيُومِهَا معصیت و گناہ سے دل مِرا داغ دار تھا پھر بھی کسی کے وصل کے شوق میں بیقرار تھا میں وہ مجنوں ہوں کہ جس کے دل میں ہے گھر یار کا اور ہوگا وہ کوئی؛ جس کو ہے محمل کی تلاش مَن يُخجلُ الوَردَ الطَّرِيَّ بِلونِهِ عَيْنَايَ دَامِيَتَان أَو خَدَّاكَ مِنكَ السُّكُونُ وَكُلَّ رَوحِ وَرَوَاحَةٍ مَن ذَا الَّذِي لَا يَتَـغِـي لقـــاكَ لاکھوں ہیں تیری دُنیا میں مجھ سا پر کوئی دوسرا نہ مجھ ޏ مقابلہ دین مصطف بنا کا؛ ہیں مُردہ نبیوں کے مُردہ مذہب ؛ دیگر ادیان کیا کریں گے لپیٹ ہے رکھو انہیں کفن میں مجھے قید محبت؛ لاکھ آزادی سے اچھی کچھ ایسا کر کہ یابند سلاسل ہی رہوں ساقی نہ دیکھی کامیابی آگهی نے ۵۰۰ مرادیں کوٹ لیں دیوانگی نے ۵۰۱ میری جانب یونہی دیکھا کسی نے ۵۰۲ مزاج یار کو برہم کیا ہے ۵۰۳ ۵۰۴ مہاجر بننے والو! بھی سوچا نظر آنے لگے ہر جا دفینے مری الفت مری دل بستگی نے کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو مدینے میں اس کے ناز روز اُٹھاتا ہوں جان پر میرے کبھی تو ناز اُٹھایا کرے کوئی محفل میں قصے عشق کے ہوتے ہیں صبح و شام حسن اپنی بات بھی تو سُنایا کرے کوئی