بیت بازی — Page 266
266 ۵۲۹ ۵۳۰ مری امید امید وابسته فلک ملا تیری نظروں میں اس دُنیا کے خاکے تجھ کو نہ کچھ دُنیا میں آکے نہ تو دیکھے گا راحت؛ یاں سے جا کے ۵۳۱ میں اپنے سیاہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق! وفا چاہتا ہوں ۵۳۲ مجھے ۵۳۳ بیر ہرگز نہیں کسی ہے میں دُنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں میرے بال و پر میں وہ ہمت ہے پیدا کہ لے کر قفس کو اُڑا چاہتا ہوں ۵۳۴ میں تو بیٹھا ہوں برکب جو کیا دکھاتا ہے سراب مجھے فائده دے گی کیا شراب مجھے با جا ہے شیخ کی جھنکار زہر لگتا ہے نہ ۵۳۵ مست ہوں میں تو روز اول سے ۵۳۶ میرا رباب مجھے ۵۳۷ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر نہ افلاک سے اونچا اڑتا ہوں پر میرے دشمن کا کوئی؛ دربار نہیں، سر کار نہیں ۵۳۸ میں تیز قدم ہوں ؛ میں مظلوموں کی ڈھارس ہوں؛ ہے کاموں میں بجلی ہے، میری رفتار نہیں مرہم مری گفتار نہیں ۵۳۹ میں تیرے فن کا شاہد ہوں تو میری کمزوری کا گواہ تجھ سا بھی طبیب نہیں کوئی مجھ سا بھی کوئی بیمار نہیں ۵۴۰ ۵۴۲ میں ہر صورت سے اچھا ہوں ؛ گر عشق کوئی آزار نہیں؟ مجھ کو بھی کوئی آزار نہیں اک دل میں سوزش رہتی ہے بغیر ابر کے مہبا و جام ނ ، کیا کام ۵۴ مجھے پلانی ہو ساقی؛ تو ابر رحمت بھیج مرا حبیب تو بستا ہے میری آنکھوں میں مجھے حسینوں کے ڈر اور بام سے کیا کام ۵۴۳ مجھے خُدا نے سکھایا ہے؟ علیم زبانی مجھے ہے فلسفہ منطق کلام سے کیا کام ۵۴۴ کے کے پھندے میں جو پھنسا؛ سو پھنسا اس کے مضبوط جال ہیں ایسے ۵۴۵ مصیبتوں میں تعاون نہیں؟ تو کچھ بھی نہیں جو غم شریک نہیں، غم گسار کیسے ہیں منبع خلق تم ہی ہو؟ میرے خالق باری صلب بھی تم ہو مری جان! ترائب بھی ہو تم ۵۴۶ ۵۴۷ محبت تجھے روکتا کون ہے ۵۲۸ مجھ کو کڑنا ہی پڑا؟ اعداء کینه توز ނ محبت کی شرائط پر گڑی ہیں جنگ آخر ہوگئی؛ تدبیر سے، تقدیر کی