بیت بازی — Page 263
263 ۴۶۶ ۴۶۷ مست نظارة جمال تھے سب آنکھیں دنیا کی ہو رہی تھیں لال میں وہاں ایک اور خیال میں تھا کیا کہوں! میں نرالے حال میں تھا ۳۶۸ میں یونہی اُس کو آزماتا تھا پاک کرنے کو دل جلاتا ۴۶۹ ۴۷۰ ام ۴۷۲ تھا کب مجھے اس کے دن قرار آیا میری خاطر اگر تھا ہے چین میخانه وہی ساقی بھی وہی ؛ ہے دشمن خود بھینگا پھر اس میں کہاں غیرت کا محل جس کو آتے ہیں نظر غم خانے دو محمود اگر منزل ہے کٹھن؛ تو راہ نما بھی کامل ہے تم اُس پر توکل کر کے چلو؛ آفات کا خیال ہی جانے دو میری نہیں زبان؛ جو اُس کی زباں نہیں میرا نہیں وہ دل؛ کہ جو اس کا مکاں نہیں ۲۷۳ مطلوب ہے فقط مجھے خوشنودی مزاج اُمید کور و خواہش باغ جناں نہیں ۲۷۴ مشتاق ہے جہاں کہ سُنے معرفت کی بات لیکن حیا و شرم سے چلتی زباں نہیں موت اس کی رہ میں گر تمھیں منظور ہی نہیں کہہ دو! کہ عشق کا ہمیں مقدور ہی نہیں ۴۷۵ ۴۷۶ ۴۷۷ ۴۷۸ ۴۷۹ مومن تو جانتے ہی نہیں بُزدلی ہے کیا اس قوم میں فرار کا دستور ہی نہیں مجھے کیا اس سے گر دنیا مجھے فرزانہ کہتی ہے تمنا ہے؛ کہ تم کہہ دو! مرا دیوانہ آتا ہے مری تو زندگی کٹتی ہے تیری یاد میں پیارے! کبھی تیری زباں پر بھی مرا افسانہ آتا ہے مرا عشق دامن یار سے ہے کبھی کا جا کے لیٹ رہا تیری عقل ہے؛ کہ بھٹک رہی ہے ابھی نشیب و فراز میں ۴۸۰ مجھ کو سینہ سے لگا لے؛ ہاں لگا لے پھر مجھے حسرتیں دل کی میٹا دے؛ ہاں میٹا دے آج تو میرے تیرے درمیاں؛ حائل ہوا ہے اک عد و خاک میں اُس کو میلا دے؛ ہاں میلا دے آج تو مطرب عشق و محبت گوش بر آواز ہوں نغمۂ شیریں سُنا دے؛ ہاں سُنا دے آج تو ۲۸۳ محمود راز حسن کو ہم جانتے ہیں خُوب صورت کسی کی نور کے سانچے میں ڈھل گئی ۴۸۴ میری رات دن بس یہی اک صدا ہے کہ اس عالم کون کا اک خُدا ہے ساتھ اس کے میں اشکبار گیا ۴۸۱ ۴۸۲ قط ۴۸۵ ۲۵ مسکراتے ہوئے؟ ہوا رخصت