بیت بازی

by Other Authors

Page 262 of 871

بیت بازی — Page 262

262 ۴۴۴ ۴۴۵ ممکن کہاں؛ کہ غیر کرے مجھ سے ہمسری وہ دل کہاں، وہ گردے کہاں؛ وہ جگر کہاں مضطرب ہو کے چلے آتے ہیں میری جانب موت ہی وصل کا پیغام ہوئی جاتی ه میرے پاس آ کے للہ بیٹھ جاؤ کہ پہلو سے ۴۴۷ مجھے سب رنج و گلفت بھول جائے جو تیری ۴۴۹ مانگ ۴۵۰ ۴۵۲ ہے مرے شیطان نکلے آرمان نکلے دید کا ۴۳۸ مطلقاً غیر از فنا راه بقا مسدود ہے مٹ گیا جو راہ میں اس کی؛ وہی موجود ہے مانگ پر ہوتی ہے پیداوار چونکہ وہ نہیں جنس تقویٰ اس لیے دُنیا سے اب مفقود ہے مدعا ہے میری ہستی کا؛ کہ مانگوں بار بار مقتضا اُن کی طبیعت کا سخاوجود ہے ۴۵۱ مجھ سے تم نفرت کرو گے؛ سامنے میرے نہ ہو گے ساتھ میرا چھوڑ دو گے ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا میری حالت پر نظر کر؛ غیب سے غض بصر کر ڈھیر ہو جاؤں گا مر کر بہ میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں اپنے پیاروں کی نسبت ؛ ہرگز نہ کروں گا پسند بھی وہ چھوٹے درجہ پر راضی ہوں ؛ اور اُن کی نگاہ رہے نیچی ؛ ۴۵۴ میں واحد کا ہوں دلدادہ؛ اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے ؛ تو میری آنکھ کا تارہ ہے ۴۵۵ ملیک و مالک و خلاق عالم رحیم و راحم و بحر العطايا میرا دل ہو گیا خوشیوں سے ہوئے ہیں آج سب رنج و الم دُور فرزند اکبر ملا ہے جس کو حق سے تاج و افسر ۴۵۳ ۴۵۶ ۴۵۷ ۴۵۸ ۴۵۹ ۴۶۰ ۴۶۱ ۴۶۲ میرا ناصر ؛ میرا مبارک جو کہ بیٹا دوسرا ہے خُدا نے اپنی رحمت سے دیا ہے مری قیوم؛ میرے دل کی راحت خُدا نے جس کو بخشی ہے منور میلی جو کہ مولیٰ کی عطا سعادت ہے بشارت سے خُدا کی جو ملا ہے ہے ہم کو نعمت خدا سے حبیب پاک حضرت مصطفی سے محبت تیری اُن کے دل میں رچ جائے ہر اک شیطان کے پنجے سے بچ جائے ۴۶۳ مجھ پر کہ ہوں عزیزوں کے حلقہ میں مثلِ غیر اس بے کس و نحیف و غریب الدیار پر مقصود جس کا علم و تگنی کا حصول تھا رکھتی تھی جو نگہ؛ نگه لطف یار پر ۴۶۵ میری طرف سے اُس کو جزا ہائے نیک دے کر رحم اے رحیم! دل سوگوار پر ۴۶۴