بیت بازی

by Other Authors

Page 261 of 871

بیت بازی — Page 261

261 ۴۲۲ ۴۲۳ ۴۲۴ ۴۲۵ ۴۲۷ ۴۲۸ ۴۲۹ ۴۳۱ ۴۳۲ مریم نے کیا ہے ختم قرآں اللہ کا ہے اس مولی کی کی عنایت و کرم کا مولی احساں سایہ رہے اس کے سر پہ ہرآں۔آمین مرضی ہو خُدا کی؟ اُس کی مرضی مولیٰ کی رضا کی ہو یہ جو یاں۔آمین سے دعا ہے پیارو! بہنو! تم کو بھی دکھائے وہ یہ خوشیاں۔آمین ۴۲۶ مجھ کو گندہ سمجھ کے مت دھتکار غرب گل میں ہی خار رہتا ہے میرے ہاتھوں سے جُدا یار کا دامان نہ ہو میری آنکھوں سے وہ اوجھل کبھی اک آن نہ ہو مضغہ گوشت ہے وہ؛ دِل میں جو ایمان نہ ہو خاک سی خاک ہے وہ ؛ جسم میں گر جان نہ ہو مبتلائے غم و آلام پر خندان نہ ہو یہ کہیں تیری تباہی کا ہی سامان نہ ہو ۲۳۰ مرحبا! وحشتِ دل تیرے سبب سے یہ سُنا میں ترے پاس ہوں سر گشته و حیران نہ ہو محبوبوں کا محبوب تھا؛ دلداروں کا دلدار معشوقوں کا معشوق دلاروں کا دلارا مرنا ہے تو اس دَر پہ ہی مر ؛ جی تو وہیں جی ہوگا تو وہیں ہوگا؛ تیرے درد کا چارہ ۴۳۳ مانا! کہ ترے پاس نہیں دولت اعمال مانا! ترا دنیا میں نہیں کوئی سہارا مردوزن عشق میں تیرے ہیں برابر سرشار پر تیری قربان ہوئے جاتے ہیں مجھ سے ہے اور ؛ تو غیروں سے ہے کچھ اور سلوک دلبرا! آپ بھی کیا رکھتے ہیں پیمانے دو میرے ہمراز ! بیشک دل محبت کا ہے پیمانہ ہے اس کا حال رندانہ؛ تو اس کی چال مستانہ کئے جاں بخش بنتی ہے جہاں؛ ہے یہ وہ میخانہ مگر وہ کیا کرے؛ جس کا کہ دل ہو جائے ویرانہ مرے ہمراز کہتے ہیں کہ اک شے ٹور ہوتی ہے جب آتی ہے؛ تو تاریکی معا کافور ہوتی ہے ۱۳۹ مگر ہم کیا کریں؟ جن کے کہ دن بھی ہو گئے ؟ راتیں میرے ہمراز آنکھیں بھی خُدا کی ایک نعمت ہیں ہزاروں دولتیں قربان ہوں جس پر ؛ وہ دولت ہیں تو پھر ہم کیا کریں آنکھیں ۴۳۴ ۴۳۵ ۴۳۶ ۴۳۷ ۴۳۸ ۴۴۰ ۴۴۲ ۴۴۳ مگر وہ منه دکھلائیں ہر ادا میرے ہمراز سب دنیا کا کام اُس میں ' پر ہے چلتا مگر امیں بھی تبھی ہوتی ہے جب ہوسا منا 'تو' کا ' میری طرح ہر اک ہے یہاں مُبتلائے عشق حیران ہوں کہ ڈھونڈوں میں اب نامہ بر کہاں