بیت بازی — Page 260
260 ۴۰۰ ۴۰۱ ۴۰۳ ۴۰۴ ۴۰۵ ۴۰۹ ۴۱۰ میری جنت تو یہ تھی ؟ میں تیرے سایہ تلے رہتا رواں دل میں مرے عرفانِ بے پایاں کی جو ہوتی ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں وہ آپ مجھ سے ہے کہتا، نہ ڈر، قریب ہوں میں ۲۰۲ مقابلہ پر عدو کے نہ گالیاں دوں گا کہ وہ تو ہے وہی ، جو کچھ کہ ہے؛ نجیب ہوں میں میرے پکڑنے پہ قدرت کہاں تجھے صیاد! کہ باغ حسن محمد کی عندلیب ہوں میں میری طرف چلے آئیں مریض رُوحانی کہ ان کے دردوں ، دُکھوں کیلئے ، طبیب ہوں میں میرے مولیٰ ! میری بگڑی کے بنانے والے میرے پیارے! مجھے فتنوں سے بچانے والے ٢٠٦ میں تو بد نام ہوں جس دم سے ہوا ہوں عاشق کہہ لیں جو دل میں ہو؛ الزام لگانے والے ۴۰۷ مجھ کو دکھلاتے ہوئے آپ بھی رہ کھو بیٹھے اے خضر! کیسے ہو تم راہ دکھانے والے ۲۰۸ مجھ سے بڑھ کر ہے میرا فکر تجھے دامن گیر تیرے قُربان! میرا بوجھ اُٹھانے والے مجھ سے بڑھ کر میری حالت کو یہ کرتے ہیں بیاں منہ سے گوچپ ہیں مرے پاؤں کے چھالے، پیارے مدعا تو ہے وہی؛ جو رہے پورا ہو کر التجا ہے وہی؛ جو کوٹے پذیرا ہو کر میرے پیارے دوستو ! تم دم نہ لینا؛ جب تلک ساری دنیا میں نہ لہرائے ہوائے قادیاں منہ سے جو کچھ چاہے بن جائے کوئی؛ پر حق یہ ہے ہے بہاء اللہ فقط؛ حُسن و بہائے قادیاں میں تو کمزور تھا؛ اس واسطے آیا نہ گیا کس طرح مانوں؛ کہ تم سے بھی بُلایا نہ گیا ۴۱۴ ملتا کس طرح کہ تدبیر ہی صائب نہ ہوئی دل میں ڈھونڈا نہ گیا؛ غیر میں پایا نہ گیا ۴۵ منبع امن کو جو تو چھوڑ کے دور چل دیا تیرے لیے جہان میں ؛ امن ہو کیوں ، امان کیوں میرے آتے ہی ادھر تم پہ کھلا ہے یہ راز تم بھی میدان دلائل کے ہو ان پیروں سے مجھ کو کیا شکوہ ہو تم سے؛ کہ میرے دشمن ہو تم یونہی کرتے چلے آئے ہو جب پیروں سے میری غیبت میں لگا لو؛ جو لگانا ہو زور تیر بھی پھینکو؛ کرو حملے بھی شمشیروں سے ماننے والے میرے بڑھ کے رہیں گے تم سے یہ قضا وہ ہے؛ جو بدلے گی نہ تدبیروں سے ۲۰ مجھ کو حاصل نہ اگر ہوتی خُدا کی امداد کب کے تم چھید چکے ہوتے مجھے تیروں سے میری حالت پہ جاناں! رحم آئے گا نہ کیا تم کو اکیلا چھوڑ دو گے مجھ کو کیا تم؛ باوفا ہوکر ۴۱۱ ۴۱۲ ۴۱۳ ۴۱۶ ۴۱۷ ۴۱۸ ۴۱۹ ۴۲۱