بیت بازی

by Other Authors

Page 258 of 871

بیت بازی — Page 258

258 ۳۵۹ ٣٦١ میری ساری آرزوئیں؛ دل ہی دل میں مر گئیں میرا سینہ کیا ہے؛ لاکھوں حسرتوں کا ہے مزار 10 منبع ہر خوبی و پرحسن و ہر نیکی ہے وہ میں ہوں اپنے نفس کے ہاتھوں سے مغلوب اور خوار مست ہو کیوں اس قدر اغیار کے اقوال پر اُس شہ خُوباں کی تم کیوں چھوڑ بیٹھے ہو کتاب میں ہوں خالی ہاتھ ؛ مجھ کو یونہی جانے دیجئے شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے حساب میری خواہش ہے؛ کہ دیکھوں اُس مقام پاک کو جس جگہ نازل ہوئی مولی! تری ائم الكتاب میرے والد کو بھی ابراہیم ہے تو نے کہا جس کو جو چاہے بنائے؛ تیری ہے عالی جناب ۳۶۲ ۳۶۳ ۳۶۴ ۳۶۵ ملتی نہیں ئے جام ہے بس اک یہی آزار ہے ۳۶۶ محمود بحال زار کیوں ہو کیا رنج ہے؟ بے قرار کیوں ہو ۳۶۷ میں باعث رنج کیا بتاؤں کیا کہتے بے قرار کیوں ہو ۳۶۸ کا اعتبار کیوں ہو ۳۶۹ ٣٧٠ ماضی نے کیا ہے جب پریشاں آئنده ملا ہوں خاک میں باقی رہا نہیں کچھ بھی مگر ہے دل میں میرے؛ اُن کی بجستجو باقی ملت احمد کے ہمدردوں میں، غمخواروں میں ہوں بے وفاؤں میں نہیں ہوں میں وفاداروں میں ہوں ۳۷۱ میں نے مانا؛ تو نے لاکھوں نعمتیں کی ہیں عطا پر میں اُن کو کیا کروں؛ تیرے طلب گاروں میں ہوں ۳۷۲ مدتوں سے مر چکا ہوتا غم و اندوہ سے گر نہ یہ معلوم ہوتا ؛ میں تیرے پیاروں میں ہوں ۳۷۳ محمد عربی کی ہو آل میں برکت ہو اُس کے حُسن میں برکت؛ جمال میں برکت ۳۷۴ ملے گی سالک رہ! تجھ کو حال میں برکت کبھی بھی ہوگی میتر نہ قال میں برکت عالم ۳۷۵ میر اسلام ہو گیا مخفی سارے پہ چھا گیا ہے سواد ٣٦ کر رہے ہیں وہ کار صد جلاد مگر اس قصد کے بہانے سے ۳۷۷ میں بھی کہتا ہوں آج تجھ سے وہی جو میں پہلے سے کہہ گئے اُستاد منبر چڑھ کے غیر کہے اپنا مدعا سینہ میں اپنا جوش دبانا پڑے ہمیں ۳۷۹ محمود کر کے چھوڑیں گے؛ ہم حق کو آشکار روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں مری تدبیر؛ جب مجھ کو مصیبت میں پھنساتی ہے تو تقدیر الہی آن کر اُس سے چھڑاتی ہے ۳۸۰