بیت بازی

by Other Authors

Page 259 of 871

بیت بازی — Page 259

259 ۳۸۱ ۳۸۲ ۳۸۳ محبت! تو وفا ہو کر؛ وفا سے جی چراتی ہے ہماری بن کے اے ظالم ! ہماری خاک اُڑاتی ہے محبت کیا ہے، کچھ تم کو خبر بھی ہے؛ سکھ مجھ سے یہ ہے وہ آگ ؛ جو خود گھر کے مالک کو جلاتی ہے مٹائے گا ہمیں کیا؟ تو ہے اپنی جان کا دشمن ارے ناداں! کبھی عشاق کو بھی موت آتی ہے محبت کی جھلک چھپتی کہاں ہے ؛ لاکھ ہوں پر دے نگاہ زیر ہیں مجھ سے بھلا تو کیا چھپاتی ہے ۳۸۵ معاذ اللہ میرا دل اور ترک عشق کیا ممکن میں ہوں وہ باؤفا؛ جس سے وفا کو شرم آتی ہے ۳۸۴ ۳۸۶ ۳۸۷ ۳۸۸ ۳۸۹ ۳۹۰ ۳۹۱ ۳۹۲ ۳۹۳ ۳۹۵ مری جاں تیرے جام وصل کی؟ خواہش میں اے پیارے مثال ماہی بے آب؛ ہر دم تلملاتی ہے میرے دل میں تو آتا ہے کہ سب احوال کہہ ڈالوں نہ شکوہ جان لیں؛ اس سے طبیعت ہچکچاتی ہے مٹا کے نقش و نگار دیں کو؟ جو پھر کبھی بھی نہ مٹ سکے گا؟ خوش دشمن حقیقت اب ایسا نقشہ بنائیں گے ہم یونہی ہے مٹا کے گفر وضلال و بدعت کریں گے آثار دیں کو تازہ خُدا نے چاہا، تو کوئی دن میں؟ ظفر کے پرچم اُڑائیں گے ہم من و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب رشته وصل کہیں قطع سرِ بام نہ میری تو حق میں تمھارے یہ دُعا ہے پیارو! سر ہو اللہ کا سایہ رہے؛ ناکام نہ ہو مسلم سوخته دل! یونہی پریشان نہ ہو تجھ اللہ کا سایہ ہے؛ ہراسان نہ ہو میں تو بھوکا ہوں فقط دید رخ جاناں کا باغ فردوس نہ ہو؛ روضہ رضوان نہ ہو ۳۹۴ مر دمیدان بنے؟ اپنے دلائل لائے گھر میں بیٹھا ہوا؛ باتیں نہ بنائے کوئی مجھ سے ملنے میں انھیں عذر نہیں ہے کوئی دل پہ قابو نہیں اپنا؛ یہی دشواری ہے مر کے بھی دیکھ لوں شاید؛ کہ میسر ہو وصال لوگ کہتے ہیں؟ یہ تدبیر بڑی کاری ہے ۳۹۷ میری یہ آنکھیں کجا؟ رویت دلدار کجا حالت خواب میں ہوں میں ؛ کہ یہ بیداری ہے میں تیرا در چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں مئے وصل حبیب لا یزال و لم یول ہوتی تو دل کیا؛ میری جاں بھی بڑھ کے قربانِ سُبو ہوتی ۳۹۶ ۳۹۸ ۳۹۹