بیت بازی

by Other Authors

Page 257 of 871

بیت بازی — Page 257

257 ۳۳۷ ۳۳۸ ۳۴۰ ۳۴۱ ۳۴۲ مجھے اُس کی نہیں پروا؛ کوئی ناراض ہو بیشک میں غداری کی سرحد سے بہت ہی دُور رہتا ہوں مجھے فکر معاش و پوشش و خور کا آئم کیوں ہو میں عشق حضرت یزداں میں جب مخمور رہتا ہوں ۳۳۹ میں سمجھا تھا؟ کہ اس کو دیکھ کر پڑ جائے گی ٹھنڈک خبر کیا تھی کہ پھنک جاؤں گا ؛ جا کر اس کی محفل میں مصیبت راہ اُلفت کی کٹے گی رکس طرح یا رب! مرے پاؤں تو بالکل رہ گئے ہیں پہلی منزل میں میرے تو دل میں تھا کہ بڑھ کر نثار ہو جاؤں اُس کے تیر نگہ نے ڈرا دیا مجھ کو میرا قدم تھا کبھی عرش پر نظر آتا بھی خاک میں کس نے میلا دیا مجھ کو مجھ کو یہ سمجھیں کہ ہوں اُلفت میں مرفوع القلم میرے پیچھے پڑ رہے ہیں سب مرے احباب کیوں مور فضل و کرم؛ وارث ایمان و بدی عاشق احمد و محبوب خُدا ہو جاؤ همیت بن چکے محیی بنیں گے کب میرے مجھے وہ مار تو بیٹھے ہیں؛ اب چلا ئیں گے کب میرے دل پر رنج و غم کا بار ہے ہاں خبر لیجے! کہ حالت زار ہے میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ مجھ سے پہنچا اُن کو کیا آزار ہے ۳۴۳ ۳۴۴ ۳۴۵ ۳۴۶ ۳۴۷ ۳۴۸ جو ہے میرے درپئے آزار ہے میری غم خواری سے ہیں سب بے خبر ۳۴۹ میری کمزوری کو مت دیکھیں؛ کہ میں جس کا بندہ ہوں؟ بڑی سرکار ہے ۳۵۰ ۳۵۱ ۳۵۲ ۳۵۳ ملایا خاک میں دشمنوں کو لد ہم کو وہ ملاتا مٹا دیتا ہے سب سب اُستاد کیا ہر مرحلہ میں ہم کو منصور و خلیفه کہ سارے کہہ اُٹھے؛ نور علی نُور ہے یہی اس دار با ނ یہی کرتا زنگوں کو دل سے اسی ۳۵۴ محبت تیری؛ دل میں جاگزیں لگی ۳۵۵ مصیبت میں ہمارا ہو ہو مددگار ނ ہے زائل دَردِ ہجراں قلب کو ملتی چلا ہے ہو کو ہمیں یادِ خُدا کی ہمارے دَردِ دل کا رازداں ہو ۳۵۶ مرغ دل میرا پھنسا ہے کس کے دامِ عشق میں کس کے نقش پا کے پیچھے اُڑ گیا میرا عبار ۳۵۷ میں جو ہنستا ہوں؛ تو ہے میری ہنسی بھی برق وش جس کے پیچھے پھر مجھے پڑتا ہے رونا بار بار مات کرتا ہے میرا دن بھی اندھیری رات کو میری شب کو دیکھ کر زُلفِ حسیناں شرمسار ۳۵۸