بیت بازی

by Other Authors

Page 245 of 871

بیت بازی — Page 245

245 ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1۔۔1+1 ۱۰۲ ہر مری اس نے ہر اک عزت بنا دی مخالف کی اک شیخی مٹا دی مجھے ہر قسم سے اس نے عطا دی سعادت دی، ارادت دی؛ وفا دی محبت غیر کی؛ دل ہٹا دی خدا جانے کہ کیا دل کو سُنا دی مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ امید کہ ہوگا میرے پر یہ فضل جاوید میلی یوسف کی عزت؛ لیک بے قید نہ ہو تیرے کرم سے کوئی نومید ا مراد آئی گئی نامرادی فسبحان الذى اخزى الاعادي ١٠٣ میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات تیرے فضلوں سے پُر ہیں؛ میرے دن رات ۱۰۴ میری خاطر دیکھائیں تو نے آیات ترخم ۱۰۵ مجھے اُس یار سے 1۔4 سے پیوند جاں ہے وہی میری سُن لی ہر اک بات جنت ؛ وہی دار الاماں ہے سے جلاؤں محبت ہے؛ کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے؛ خودی جس ہے؟ کس کو سُناؤں وفا کیا راز ۱۰۷ محبت چیز کیا؟ کس کو بتاؤں ۱۸ میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر؛ کہ خاک اپنی اڑاؤں مجھے تو نے دولت؛ اے خدا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي 1+9 11۔۱۱۲ تہ بات مولیٰ نے بتا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي مجھے مسلمانوں مسیح وقت اب تب ادبار آیا دنیا میں آیا مبارک خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا جب تعلیم قرآں کو بھلایا 609 جو آب ایمان لایا؛ ملا، جب مجھ کو پایا مولی صحابہ سے گاه گاه ملتی نہیں عزیزو! فقط قصوں سے یہ راہ وہ روشنی نشانوں سے سے آتی ہے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مر گئے ہیں؟ نیکی کی قدرت نہیں رہی ملتا وہ اسی کو؛ جو ہو خاک میں ملا ہے ظاہر کی قیل و قال؛ بھلا کس حساب میں موت کی رہ سے ملے گی؟ اب تو دیں کو کچھ مدد ورنہ دیں اے دوستو! اک روز مرجانے کو ہے سمجھتے نہیں؛ لیکھو بڑی کرامت ہے موت ؛ پر شامت ہے ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷