بیت بازی

by Other Authors

Page 246 of 871

بیت بازی — Page 246

246 ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۲ ۱۲۳ مجھ کو قسم خدا کی؛ جس نے ہمیں بنایا اب آسماں کے نیچے؛ دین خدا یہی ہے ملتی ہے بادشاہی؛ اس دیں سے آسمانی اے طالبان دولت! ظل ہما یہی ہے معلوم کر کے سب کچھ ؛ محروم ہو گئے ہیں کیا ان نیوگیوں کا؛ ذہن رسا یہی ہے ۱۲۱ میٹھے بھی ہو کے آخر نشتر ہی ہیں چلاتے ان تیرہ باطنوں کے دل میں دعا یہی ہے میں ہوں ستم رسیدہ؛ ان سے جو ہیں رمیده شاہد ہے آب دیده؛ واقف بڑا یہی ہے ١٢٣ میں دل کی کیا سُناؤں؛ کس کو یہ غم بتاؤں دُکھ درد کے ہیں جھگڑے؛ مجھ پر بلا یہی ہے ۱۲۴ مشت غبار اپنا تیرے لئے اُڑایا جب سے سُنا؛ کہ شرط مہر و وفا یہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے؛ پھر پھر کے در پہ آتے تیغ و تبر دکھاتے؛ ہر سُو ہوا یہی ہے ۱۲۶ مجھ کو ہو کیوں ستاتے؛ سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے؛ دور از بلا یہی ہے معاذ اللہ ! یہ سب باطل گماں ہے خود ایشر نہیں؛ جو ناتواں ہے ۱۲۸ مگر ملتی نہیں کوئی بھی بُرہاں مومن کے جو نشاں ہیں؛ وہ حالت نہیں رہی اُس یار بے نشاں کی محبت نہیں رہی ۱۲۵ ۱۲۷ ۱۲۹ ۱۳۰ وہ بھلا سچ کس طرح ہو جائے بہتاں میں بھائی کو کیونکر ستا سکتی ہوں کیا وہ میری اماں کا جایا نہیں ۱۳۱ موجوں سے اس کی پردے وساؤس کے پھٹ گئے جو کفر اور فسق کے ٹیلے تھے، گٹ گئے ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ مقصود ان کا جینے سے دنیا کمانا ہے مومن نہیں ہیں وہ؛ کہ قدم فاسقانہ ہے مردہ پرست ہیں وہ؛ جو قصہ پرست ہیں بس اسلئے وہ موردِ زل و شکست ہیں در عدن مطعون خلائق ہو؟ تو ڈرتا نہیں اس سے دیوانه عاقل برو کار محبت مانا کہ ہم تیرے بھی ہیں اور بد نما بھی ہیں ظالم بھی ہیں، شریر بھی ہیں؛ پر ریا بھی ہیں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں؟ ۱۳۹ مجھے دیکھ طالب منتظر! مجھے دیکھ شکل مجاز میں تری جبین نیاز میں