بیت بازی

by Other Authors

Page 230 of 871

بیت بازی — Page 230

230 گر گماں صحت کا ہو پھر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کیلئے فرقاں پہ کر سکتے ہو وار گر کرو تو بہ؛ تو اب بھی خیر ہے کچھ غم نہیں تم تو خود بنتے ہو قہر ذوالمئن کے خواستگار گرنتھوں میں ہے شک کا اک احتمال کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال گر یہی اسلام ہے؛ بس ہوگئی اُمت ہلاک کس طرح رہ مل سکے جب دیں ہی ہو تاریک و تار گرو جس کے اس رہ پہ ہوویں فدا وہ چیلا نہیں؛ جو نہ گرو نے چولہ بنایا شعار دے سر جھکا دکھایا کہ اس رہ ہوں میں نثار گڑھے میں تو نے سب دشمن اُتارے ہمارے کردیئے اونچے منارے گر عاشقوں کی روح نہیں اس کے ہاتھ سے پھر غیر کیلئے ہیں وہ کیوں اضطراب میں گر وہ الگ ہے ایسا کہ چھو بھی نہیں گیا پھر کس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں گو ہیں بہت درندے انسان کی پوستیں میں پاکوں کا خوں جو پیوے؛ وہ بھیڑیا یہی ہے گویا اب اس میں طاقت و قدرت نہیں رہی سلطنت، وہ زور؛ وہ شوکت نہیں رہی گر ایسے تم دلیریوں میں بے حیا ہوئے پھر اتقا کے، سوچو! کہ معنے ہی کیا ہوئے گر اُس سے رہ گیا تھا؛ کہ وہ خود دکھائے ہاتھ اتنا تو سہل تھا کہ تمہارا بٹائے ہاتھ گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو وہ وہ ، مثل سنگ کوهسار دل سنگیں جو ہووے گر نہ ہوتی بد گمانی؛ کفر بھی ہوتا فنا اس کا ہووے ستیاناس؛ اس سے بگڑے ہوشیار گلشن احمد احمد بنا ہے مسکن بادِ صبا بادِ صبا جس کی تحریکوں سے سُنتا ہے بشر گفتار یار گر حیا ہو، سوچ کر دیکھیں؛ کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں؛ پا رہا ہوں میں وقار گر یہی دیں ہے؛ جو ہے ان کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے؟ ہوش کر اک یہی دیں کیلئے ہے جائے عز و افتخار گر نہ ہو تیری عنایت؛ سب عبادت بیچ ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کا انحصار در عدن گر حکم ہو تو کھول کے سینہ دکھا ئیں سب آقا سنیں تو قصہ دل کہہ سنائیں سب ۸ ۹ ۱۰ "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸